جھوٹ سے ہر گز گذارہ نہیں ہو سکتا۔ افسوس کہ یہ بد بخت لوگ خدا تعالیٰ کی قدر نہیں کرتے۔وہ نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بدوں گذارہ نہیں ہو سکتا۔وہ اپنا معبود اور مشکل کشا جھوٹ کی نجاست ہی کو سمجھتے ہیں ۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں جھوٹ کوبتوں کی نجاست کے ساتھ وابستہ کر کے بیان فرمایا ہے۔یقیناً سمجھو کہ ہم ایک قدم کیا ایک سانس بھی خداتعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں لے سکتے۔ہمارے جسم میں کیا کیا قویٰ ہیں،لیکن کیا ہم اپنی طاقت سے ان سے کام لے سکتے ہیں؟ہرگز نہیں۔ خداتعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے معنی جو لوگ اپنی قوت بازو پر بھروسہ کرتے ہیں اور خداتعالیٰ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔خداتعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے یہ معنی نہیں کہ ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھ رہے، بلکہ خداتعالیٰ کے پیدا کردہ اسباب سے کام لینا اور اس کے عطا کردہ قوی کو کام میں لگانا۔پھر نتیجہ کے لیے خداتعالیٰ پر بھروسہ کرنا یہی حقیقی راہ ہے اور خدفاتعالیٰ کی قدر ہے،جو لوگ خدادادقوی سے کام نہیں لیتے اور صرف منہ سے کہہ دیتے ہیں کہہ ہم خداتعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں وہ جھوٹے ہیں اور وہ خداتعالیٰ کی قدر نہیں کرتے۔ بلکہ خداتعالیٰ کو آزماتے ہیں اور اس کی عطا کردہ قوتوںاور طاقتوں کو لغو قرار دیتے ہیں اور اس طرح پراس کے حضور شوخی اور گستاخی کرتے ہیں اور ایاک نعبد کے مفہوم سے دور جا پڑتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے،بلکہ بغیر اس پر عمل کیے ایاک نستعین کا ظہور چاہتے ہیں،یہ ہرگز مناسب نہیں بلکہ جہانتک ہو سکے اور انسان کے امکان اور طاقت میں ہو۔رعایت اسباب ضرور کرنی چاہیے،لیکن ان اسباب کو اپنا معبود اور مشکل کشا قرار نہ دے، بلکہ ان سے کام لے کر پھر انجام کو تفویض الی اللہ کرے اور اس بات پر سجدات شکر بجا لاتے کہ خدا نے اس کو وہ طاقتیں اور قوی عطا فرمائے ہیں۔ فانی فی اللہ کا مقام خداتعالیٰ کے فضل اور تائید کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا۔جب اللہ تعالیٰ کی طرف انسان کھنچاجاتا ہے اور خداتعالیٰ میں  فنا ہو جاتا ہے تو اس سے وہ کام صادر ہوتے ہیں،جو خدائی کام کہلاتے ہیں اور اس پر اعلیٰ سے اعلیٰ انورار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔انسانی کمزوری کا تو کچھ بھی ٹھکانا نہیں ہے۔وہ ایک قدم بھی خداتعالیٰ کے فضل اور تائید کے بغیر نہیں چل سکتا۔میں تو یہاںتک یقین رکھتا ہو کہ خداتعالیٰ کی طرف سے اسے مدد نہ ملے تو وہ رفع حاجت کے بعد ازار بند تک بھی باندھنے کی طاقت نہیں رکھ سکتا۔طبیبوںؔ نے ایک مرض لکھی ہے جس کی کیفیت یہ ہے کہ انسان جن چھینک لے تو اس کے ساتھ ہی ہلاک ہو جاتا ہے۔یقیناً یادرکھو کہ انسان کمزوریوں کا مجموعہ ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے خلق الانسان ضعیفاً(النساء:۲۹) انسان کا اپنا توکچھ بھی نہیں ہے۔سر سے لے کر پائوں تک اتنے اعضاء نہیں رکھتا،جس قدر کہ اس کو امراض لاحق ہوتے ہیں۔جب وہ اتنی کمزوریوں کا نشانہ اور مجموعہ ہے تو پھر اس کے لیے امن اور عافیت کی یہی