کے منہ سے نکلے یا نہ نکلے،لیکن اللہ تعالیٰ جو مبدا ء الفیوض اور صدق اور راستی کا سر چشمہ ہے۔اس کو ضرور مدد دے وے گا اور صداقت کے اعلیٰ اصول اور حقائق اس پر کھول دے گا۔مثلاً جیسے کہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جو تاجر اچھے اصولوں پر چلتاہے اور راستبازی اور دیانت کو ہاتھ سے نہیں دیتا۔اگر وہ ایک پیسہ سے بھی تجارت کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک پیسے کے بدلہ لاکھوں روپے دے دیتا ہے۔
صدیق پر معارف قرآنی کھولے جاتے ہیں اسی طرح پر جب عام طور پر ایک انسان راستی اور راستبازی سے محبت
کرتاہے۔ اور صدق کو اپنا شعار بنا لیتا ہے،تو وہی راستی اس عظیم الشان صدق کو کھینچ لاتی ہے جو خدا تعالیٰ کو دکھا دیتی ہے۔صدق مجسم قرآن مجید ہے اور پیکر صدق آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مبارک ذات ہے۔اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ کے مامور و مرسل حق اورصدق ہوتے ہیں۔ پس جب وہ اس صدق تک پہنچ جاتا ہے،تب اس کی آنکھ کھلتی ہے اور اسے ایک خاص بصیرت ملتی ہے۔جس سے معارف قرآنی اس پر کھلنے لگتے ہیں۔میں اس بات کے ماننے کے لئے کبھی بھی تیار نہیں ہوں کہ وہ شخص جو صدق سے محبت نہیں کرتا اور راستبازی کو اپنا شعار نہیں بناتا وہ قرآن پاک کے معارف کو سمجھ بھی سکے۔اس لئے کہ اس کے قلب کو اس سے مناسبت ہی نہیں،کیونکہ یہ تو صدق کا چشمہ ہے اور اسے وہی پی سکتا ہے جس کو صدق سے محبت ہو۔
پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ معارف قرآنی صرف اسی بات کا نام ہی نہیں کہ کبھی کسی نے کوئی نکتہ بیان کر دیا۔اس کی تو وہی مثال ہے۔؎
گاہ باشد کہ کود کہ ناداں بغلط بر بدف زند تیرے
انہیں قرآنی حقائق و معارف کے بیان کرنے کے لئے قلب کو مناسبت اور کشش اور تعلق حق اور صدق سے ہو جاتا ہے اور پھر یہاں تک اس میں ترقی اور کمال ہوتا ہے کہ وہ ما ینطق عن الھویٰ(النجم:۴)کا مصداق ہو جاتا ہے۔اس کی نگاہ جب پڑتی ہے ،صدق پر ہی پڑتی ہے۔اور اس کو ایک خاص قوت اور امتیازی طاقت دی جاتی ہے ۔جس سے وہ ھق وباطل میں فی الفور امتیاز کر لیتا ہے۔یہاںتک کہ اس کے دل میں ایک قوت آجاتی ہے۔جس کی ایسی تیز حس ہوتی ہے کہ اسے دور ہی سے باطل کی بو آجاتی ہے۔یہی وہ سر ہے جو لایمسہ الا امطھرون(الواقعہ:۸۰) میں رکھا گیا ہے۔
جھوٹ ترک کئے بغیر انسان مطہر نہیں ہو سکتا حقیقت میںجب تک انسان جھوٹ کو ترک نہیں کرتا،وہ مطہر نہیں ہو
سکتا۔نابکار دنیا دار کہہ سکتے ہیں کہ جھوٹ کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا ۔یہ ہی ایک بیہودہ گوئی ہے۔اگر سچ سے گذارہ نہیں ہو سکتا،تو پھر