یہی وجہ اس کی جمعیّت قلب کی ہوتی ہے۔کوئی شوروشر اس کو پرا گندہ نہیں کر سکتا ۔عامطور پر دیکھا گیا ہے کہ ایک عاشق چاہتا ہے کہوہ اپنے معشوق اور محبوب کے حسن وجمال پر پوری طرح اطلاع پالے اور ہر وقت اس سے کلام کرتا رہے،مگر ایسا نہیں ہوا کرتا۔اور اس قسم کی دنیاوی خواہشیں ذلیل ہیں،لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرنے والے اور اس کے عشق میں گمشدہ قوم یعنی انبیائؑ ان جھوٹے اور فانی عاشقوں کے عشق سے کہیں بڑھ کر اپنے اندر جوش رکھتے ہیں،کیونکہ ان کا خدادہ خداہے جو جھکنے والوں کی طرف جھکتا ہے۔اور وہ ان پر بہت زیادہ توجہ کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف آنے والا معمولی چال سے چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے۔پس جس شخص کی توجہ ایسے خدا کی طرف ہوجائے اور وہ اس کی محبت میں کھویا جائے،تو اس محبت اور عشق الہی کی آگ اس کے امانی اور نفسانی خیالات کو جلادیتی ہے اور اس کے اندر روح ناطق بھر جاتی ہیاور وہ پاک نطق جواس کے اندر شروع ہوتا ہے،وہ خداتعالیٰ کا نطق ہوتا ہے ، جسے دوسرے رنگ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں۔کہ یہ خداتعالیٰ سے دعا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتا ہے۔پس یہ ایک کمال نبوت ہے۔جسے انعمت علیھم میں بیان کیا گیا ہے۔اس لیے یہ ضروری بات ہے کہ جب انسان اھدناالصراط المستقیم۔صراط الذین انعمت علیھم(الفاتحہ:۷) کی دعا مانگے،تو اس کے پیش نظر یہ رہنا چاہیے کہ وہ ا س کمال نبوت کو حاصل کرے۔ مقام صدیقیّت پھر دوسرا کمال صدیقوں کاکمال ہے۔صدیق مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی جو بالکل راستبازی میں فنا شدا ہو اور کمال درجہ کا پابند راستبازاور عاشق صادق ہو۔یہ ایک ایسا مقام ہے کہ جب ایک شخص اس درجہ پر پہنچتا ہے،تو وہ ہر قسم کی صداقتوں اور راستبازیوں کا مجموعہ اور ان کوشش کرنے والا ہو جاتا ہے جس طرح پر صدیق کمالات صداقت کا جذب کرنے والا ہوتا ہے۔بقول شخصے ؎زرزرکشددرجہاں گنج گنج۔جب ایک شے بہت بڑا ذخیرہ پیدا کر لیتی ہے،تو اس میں اپنی قسم کی اشیاء کو جذب کرنے کی قوت پیدا ہو جاتی ہے ۔ کمال صدیقیت کے حصول کا فلسفہ صدیق کے کمال کے حصول کا فلسفہ یہ ہے کہ جب وہ اپنی کمزوریوں اور ناداری کو دیکھ کر اپنی طاقت اور حیثیت کے موافق ایاک نعبد کہتا ہے اور صدق اختیار کرتا ہے اور جھوٹ کو ترک کر دیتا ہے اور ہر قسم کے رجس اور پلیدی سے جھوٹ کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔دور بھاگتا ہے اور عہد کر لیتا ہے کہ کبھی جھوٹ نہ بولوں گا،جھوٹی گواہی نہ دون گا اور نہ جزبہ نفسانی کے رنگ میں کوئی جھوٹاکلام کروں گا۔نہ لغو طور پر نہ کسب خیر اور نہ دفع شر کے لئے۔یعنی کسی رنگ اور حالت میں بھی جھوٹ کو اختیار نہیں کروں گا۔جب اس حد تک وعدہ کرتا ہے تو گایا ایاک نعبد پر وہ ایک خاص عمل کرتا ہے۔اور اس کا وہ عمل اعلیٰ درجہ کی عبادت ہوتی ہے۔ایاک نعبد سے آگے ایاک نستعین ہے۔خوا یہ اس