کے جذب میںاس قدر قوت ہوتی ہے کہ دنیا اور مافیہا کی ساری باتیں اس میں بھسم ہو جاتی ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل اور فیض کو اپنی طرف کھینچنے لگتی ہیں اور اس سلسلہ کو باقی تمام سلسلوں پر تقدم اور فوق ہو جاتا ہے۔لیکن اس کے لئے مجاہدہ صحیحہ کی ضرورت ہے۔اس کے بغیر یہ راہ نہیں کھلتی۔جیسا کہ فرمایا:والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا(العنکبوت:۷۰)اور اسی کی طرف اشارہ ہے ایاک نعبد۔اگرچہ ایاک نعبد کو ایاک نستعین پر مقدم ہے،لیکن اگر پھر بھی غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت نے سبقت کی ہوئی ہے۔ایاک نعبد بھی کسی طاقت نے کہلوایا ہے اور وہ قوت جو پوشیدہ ہی پوشیدہ ایاک نعبد کا اقرار کرتی ہے،کہاں سے آئی؟کیا خد اتعالیٰ نے ہی وہ عطا فرمائی ہے؟بے شک وہ خدا تعالیٰ کو ہی عطیہ ہے جو اس نے محض رحمانیت سے عطا فرمائی ہے۔اس کی تحریک اور توفیق سے یہ ایاک نعبد بھی کہتا ہے۔اس پہلو سے اگر غور کریں،تو اس کو تاخر ہے اور دوسرے پہلو سے اس کو تقدم ہے۔یعنی جب یہ قوت اس کو اس بات کی طرف لاتی ہے تو یہ تاخر ہو گیا اوربصورت اول تقدم۔اسی طرح پر سلسلہ نبوت کی فلاسفی کا خلاصہ یا مفہوم ہے۔ لوازم نبوت یہ تو ممکن ہے کہ ہزاروں ہا ہزار انسان ملہم ہونے کا دعویٰ کریں اور اثبات نبوت اور کلام الہی کی محبت قائم کرنے کے واسطے یہ ضروری امر ہے،لیکن امر نبوت میں مقصود با لذات ایک اور امر ہوتا ہے جو خاص نبیوں سے مخصوص ہوتا ہے اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کوئی شے آتیہے تو اس کے لوازم اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔یہ نہیں کہ وہ لوازم سے الگ ہو۔مثلاً جب کھانا کھائے گا ،تو اس کے کوازم ساتھ ہی ہوں گے۔ہر قسم کے برتن،پانی یہاں تک کہ کلال بھی دیں گے۔اسی طرح پر نبوت کے ساتھ لوازمات نبوت بھی ساتھ ہوتے ہیںاور منجملہ ان لوازمات کے ایک یہ بھی ہے کہ کلام نفسانی کا سلسلہ بالکل ختم ہو جاتا ہے اور یہ امر اصل کیفیت کے لوازم میں سے ہے اور اس کے آثار اور علامات کی دلیل وہ پیشگوئیاں ہوتی ہیں جو خدا تعالیٰ انہیں عطا کرتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھو کہ نبیوں کا ایک اور نام آسمان پر ہوتا ہے جس سے دوسرے لوگ آشنا بھی نہیں ہوتے اور بعض وقت جب وہ آسمانی نام دنیا کے سامنے پیش ہوتا ہے،تو لوگوں کو ٹھوکر لگ جاتی ہے۔مثلاً میرے ہی معاملہ میں خداتعالیٰ نے میرا نام مسیحؔ ابن مریم بھی رکھا ہے۔جس پر بعض نادان اعراض کرتے ہیں کہ تمہارانام تو غلامؔاحمدہے،مگر وہ اس راز کو سمجھ نہیں سکتے۔یہ اسرارنبوت میں سے ایک بات ہے۔ غرض جب دونوں قسم کے جھوٹے مکالمے ختم ہو جاتے ہیں،تو پھر اس کا دل بولتا ہے اور ہر وقت بولتا رہتا ہے۔حرکت کرتا ہے۔تب بھی اس سے آواز آتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہزاروں ہزار لوگ اس کے پاس اور اور قسم کی باتوں میں مشغول ہوں،مگر یہ اپنے اس سلسلہ میں لذّت پاتا ہے اور اپنے محبوب سے کلام کرنے میں مصروف رہتا ہے۔