ہے اور اس میں اس قسم کے دخان اور اضغاث،احلام نہیں ہوتے جو نفسی کلام میں ہوتے ہیں۔بلکہ وہ دنیا سے انقطاع کلی کیے ہوئے ہوتاہے۔جیسے ایک نفسانی خواہشوں کا اسیر اپنی محبوبہ سے تعلق پیدا کر کے ہمہ گوش ہو کر تصور کرتا ہے۔اور اسے نفسانی لذات کا معراج پاتا ہے اور قطعاً نہیں چاہتا کہ وہ کسی دوسرے کو ملے۔اسی طرح سے نبی خدا تعالیٰ سے اپنے تعلقات کو یہاں تک پہنچاتا ہے کہ وہ اس تنہائی اور خلوت میں کسی دوسرے کا دخل ہر گز پسند نہیں کرتا۔وہ اپنی محبوبہ سے ہم کلام ہو تا ہے اور اسی میں لذت اور سکون پاتا ہے۔وہ ایک دم کے لئے بھی اس خلوت کو چھوڑنا پسند نہیں کرتا۔لیکن خدا تعالیٰ اس کو دنیا کے سامنے لاتا ہے تا کہ وہ دنیا کی اصلاح کرے اور خدا نما آئینہ ٹھہرے۔نبی طبعاً ایک لذت اور کیفیت پاتا ہے اور ایس خدا تعالیٰ ہی میں چاہتا ہے۔اس سے زیادہ میں اس کی حقیقت اور کیفیت کو بیان نہیں کر سکتا ؛اگرچہ دل اس لذت سے بھرا ہوا ہے اور اس ذکر کی درازی اور بھی لذت بخش ہے۔مگر وہ الفاظ کہاں سے لاؤں جن میںاس کو ظاہر کر سکوں۔
کیا وجہ ہے کہ انبیاؑء بیویاں اور بچے بھی رکھتے ہیں؟ بعض لوگوں کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ جبکہ انبیاء ایسے فنا فی اللہ
ہوتے ہیں اور دنیا اس کی لذتوں سے دور بھاگتے ہیں،پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ بیویاں اور بچے بھی رکھتے ہیں؟ایسے معترضین اتنا نہیں سمجھتے کہ ایک شخص تو ان باتوں کا سیر اور ان فانی لذتوں میں فنا ہوجاتا ہے،لیکن اس کے خلاف انبیاء کا گروہ ان باتوں سے پاک ہوتا ہے۔یہ چیزیں ان کے لئے محض خادم کے طور پر ہوتی ہیں۔علاوہ ازیں انبیاء ہر قسم کی اصلاح کے لئے آتے ہیں۔پس اگر وہ بیوی بچے نہ رکھتے ہوں،تو اس پہلو میں تکمیل اصلاح کیونکر ہو۔اسی لئے میں کہتا ہوں کہ عیسائی لوگ معاشرت کے متعلق حضرت مسیح کا دنیا کے رو برو کیا نمونہ پیش کر سکتے ہیں ؟کچھ بھی نہیں۔جب وہ اس راہ سے ہی نہ واقف ہیں اور مدارج سے ہی بے خبر،تو ہو کیا اصلاح کریں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہی کمال ہے کہ ہر پہلو میں آپ کا نمونہ کامل ہے۔دنیا اور اس کی چیزیں انبیاء پر کوئی اثر نہیں دال سکتیںاور وہ فانی لذتوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے،بلکہ ان کا دل خدا تعالیٰ کی طرف اس دریا کی ایک تیز دھار کی طرح جو پہاڑ سے گرتی ہے بہتا ہے اور اس کے رو میں ہر خس وخاشاک بہ جاتا ہے۔
غرض انبیا علیہم السلام ان چیزون کے غلام نہیں ہوتے،بلکہ یہ چیزیں ان کے لئے بطور خادم ہوتے ہیں اور ان کے اعلی درجے کے اخلاقی کمالات کا نمونہ ان کے اس ذکر اور ذوق میں جو خدا تعالیٰ کے تصور اور محویت میں انہیں ملتا ہے کچھ ہرج نہیں ہوتا۔وہ کچھ ایسے محو اور فنا ہوتے ہیں کہ دنیا سے بالکل الگ ہوتے ہیں۔جب اس قسم کی ربودگی ہوتی ہے،تو پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے آوازیں آنے لگتی ہیں اور مکالمات الہیہ ہوتے ہیں۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب جذب کی قوت کسی چیز میں ہوتی ہے تو وہ دوسرے کو اپنے اندر جذب کرتی ہے۔انبیاؑء