تقسیم کلام نفس کی جوکی ہے یہ دونوںقسمیں انجام کارانسان کو ہلاک کر دیتی ہیں،لیکن نبی ان دونوں قسم کے سلسلہ کلام سے پاک ہوتا ہے ۔ مقام نبوت کی حقیقت نبوت کیا ہے؟یہ ایک جو ہر خدا داد ہے۔اگر کسب سے ہوتا تو سب لوگ نبی ہو جاتے۔نبیوں کی فطرت ہی اس قسم کی نہیں ہوتی کہ وہ اس بے جاسلسلہ کلام میں ہوں۔وہ نفسی کلام کرتی ہی نہیں؛حالانکہ دوسرے لوگوں کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ وہ ان سلسلوں میں کچھ ایسے مبتلا ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا خانہ ہی خالی رہ جاتا ہے۔بر خلاف اس کے نبی اد دونوں سلسلوں سے الگ ہو کر خدا تعالیٰ میں کچھ ایسے گم ہوتے ہیں اور اس کے مخاطبہ اور مکالمہ میں ایسے محو ہوتے ہیں کہ ان سلسلوں کے لئے ان کے دل ودماغ میں سمائی اور گنجائش بھی نہیںرہتی،بلکہ ان کے دل ودماغ میں صرف اللہ تعالیٰ کا ہی سلسلہ کلام رہ جاتا ہے۔چونکہ ان کے پاس صرف وہی سلسلہ باقی ہوتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ ان سے کلام کرتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے رہتے ہیں۔تنہائی اور بے کاری میں بھی جب ایسے خیالات کا سلسلہ ایک انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے۔اس وقت اگر کوئی شخص نبی کو بھی ویسی ہی حالت میں دیکھے ،تو شاید غلطی اور ناواقفی سے سمجھ لے گا کہ اب اس کا سلسلہ کلام بھی کدا تعالیٰ سے نہ ہو گا،مگر ایسا نہیں ہوتا۔نبی ہر وقت خد اتعالیٰ سے ہی باتیں کرتا رہتا ہے۔اور یہی دعا کرتا رہتا ہے کہ اے خدا میں تجھ سے پیار کرتا ہوںاور تیری ہی رضا کا طالب ہوں۔مجھ پر ایسا فضل کر کے میں اس نقطہ اور مقام تک پہنچ جاوں جو تیری رضا کا مقام ہے۔مجھے ایسے اعمال کی توفیق دے جو تیری نظر میں پسندیدہ ہوں۔دنیا کی آنکھ کھول کر وہ تجھے پہچانے ور تیرے آستانے پر گرے۔یہ اس کے خیالات ہوتے ہیں اور یہی آرزوئیں۔اور ان میں وہ ایسا فنا ہوتا ہے کہ دوسرا آدمی اس کو شناخت نہیں کر سکتا۔نبی اس سلسلے کو ذوق کے ساتھ دراز کرتا ہے اور پھر اس میں اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ اس کا دل پگھل جاتا ہے اور اس کی روح بہہ نکلتی ہے۔وہ پورے زور اور طاقت کے ساتھ آستانہ الوہیت پر گرتی ہے اور انت ربی انت ربی کہہ کر پکارتی ہے۔تب اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحم جوش میں آتا ہے اور وہ اس کو مخاطب کرتا اور اپنے کلام سے اس کا جواب دیتا ہے۔یہ ایسا لذیذ سلسلہ ہے کہ ہر شخص اس کو سمجھ نہیں سکتا اور یہ لذت ایسی ہے کہ اس کو ادا نہیں کر سکتے۔پس وہ بار بار مستسقی کی طرح باب ربوبیت کو ہی کٹھکھٹاتا رہتا ہے اور وہاں ہی اپنے لئے راحت و آرام پاتا ہے۔وہ دنیا میں ہوتا ہے،لیکن دنیا سے الگ ہوتا ہے۔وہ دنیا کی کسی چیز کا آرزو مند نہیں ہوتا ،لیکن دنیا اس کی خادم ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اس کے قدموں پر دنیا کو دالتا ہے۔ یہ ہے مختصر حقیقت نبوت کے مقام کی۔یہاں کلام نفسی کے دونوں سلسلے بھسم ہو جاتے ہیں اور تیسرو سلسلہ شروع ہوتا ہے۔جس کا مبداء اور منتہا خدا تعالیٰ ہی ہوتا ہے۔اس وقت وہ خدا تعالیٰ کے کلام کو جذب کرتا