ہی ہے۔ عجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے اور ایسا ہی کبھی خود غضب عجب وپندار کا نتیجہ ہے،کیونکہ غضب اس وقت ہوگا۔جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں،یاایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں۔خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے۔یہ ایک چھوٹا کون ہے ۔یہ ایک قسم کی تحقیر ہے۔جس کے اندرحقارت بیج کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جائے۔بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں۔لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے۔اس کی دلجوئی کرے۔اس کی بات کی عزت کرے۔کوئی چڑ کی بات منہ پرنہ لادے کہ جس سے دکھ پہنچے۔خدا تعالی فرماتا ہے۔وَلَاتَنَابَزُوْابِالْاَلْقَابِ بِئْسَ الاِْسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الاِْیْمَانِ۔وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔(الحجرات:۱۲)تم ایک د وسرے کا چڑ کے نام نہ لو۔یہ فعل فساق وفجار کا ہے۔جو شخص کسی کو چڑاتا ہے ،وہ نہ مر ے گا۔جبتک وہ خود اسی طرح مبتلانہ ہو گا۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔جب ایک ہی چشمہ سے کل پانی پیتے ہو،تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔ مکرمومعظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہو سکتا۔ خا تعالے کے نزدیک بڑا وہ متقی ہے۔اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقٰکُمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۔(الجحرات:۱۴) ذاتوں کا امتیاز یہ جو مختلف ذاتیں ہیں۔یہ کوئی وجہ شرافت نہیں۔ خدا تعالی نے محض عرف کے لیے یہ ذاتیں بنائیں اور آج کل تو صرف بعد چارپشتوںکے حقیقی پتہ لگا نا ہی مشکل ہے۔متقی کی شان نہیں کہ ذاتوں کے جھگڑے میں پڑے۔جب اللہ تعالی نے فیصلہ کر دیا کہ میرے نزدیک ذات کی کوئی سند نہیں۔حقیقی مکرمت اور عظمت کا باعث فقط تقوی ہے۔ متقی کون ہیں؟ خدا کے کلام سے پایا جاتا ہے کہ متقی وہ ہوتے ہیں جو حلیمی اور مسکینی سے چلتے ہیں۔وہب مغرور انہ گفتگو نہیں کرتے۔ان کی گفتگو ایسی ہوتی ہے جیسے چھوٹا بڑے سے گفتگو کرے۔ہم کو ہر حال میں وہ کرنا چاہتے ۔جس سے ہماری فلاح ہو۔ اللہ تعالی کسی کا اجار ہ دار نہیں۔وہ خاص تقوی کریگا وہ مقام اعلی کو پہنچے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلمکے والد ماجد عبداللہ مشرک نہ تھے،لیکن اس نے نبوت تو نہیں دی۔یہ تو فضل الہی تھا۔ ان صدقوں کے باعث جو ان کی فطرت میں تھے۔یہی فضل کے محرک تھے حضرت ابراہیم علیہ اسلام جو ابوالانبیا تھے، انھوں نے اپنے صدق وتقوی سے ہی بیٹے کو قربان کرنے میں دریغ نہ کیا۔خود آگ میں ڈالے گئے۔ ہمارے سیدومولی حضرت محمدرسو ل اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلمکا ہی صدق ووفا دیکھئے۔آپؑ نے ہر ایک قسم کی بد تحریک کا مقابلہ کیا۔طرح طرح کے مصائب وتکالیف اٹھائے،لیکن پروانہ کی۔یہی صدق ووفا تھا، جس کے باعث اللہ تعالی نے فضل کیا۔اسی لیے تو اللہ تعالے نے فرمایا:اِنْ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہ‘ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیَّ یَا اَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاصَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْاتَسْلِیْماً(الاحزاب۵۷)