انسان لمبا نہیں ہونے دیتا اور معمولی خیال کی طرح آکر دل سے محو ہو جاتا ہے وہ معاف ہیں ۔لیکن جب اس سلسلہ کو لمبا کرتا ہے اور اس پر عزیمت کرتا ہے،تو وہ گناہ ہے اور ان کی جواب دہی کرنی پڑے گی۔
جب انسان ان خیالات کو جو اس کے دل میں پیدا ہو تے ہیں۔دور کر دیتا ہے اور ان کو لمبا نہیں ہونے دیتا،تو اس مین کچھ شک نہیں کہ وہ معافی کے قابل ہیں۔لیکن جب ان کے سلسلے کی درازی میں ایک لذت پاتا ہے اور ان کو بڑھاتا چلا جاتا ہے۔تب وہ قابل مواخذہ ہو جاتے ہیں،کیونکہ ان میںعزیمت شامل ہو جاتی ہے۔
جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا ہے۔اس بات کو خوب یاد رکھ لو کہ کلام نفسی دو قسم کا ہوتا ہے۔کبھی شیطان جو خیالی فسق وفجور کے سلسلہ میں چلا جاتاہے اور آرزوں کے ایک لمبے سلسلہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔جب تک انسان ان دونوں سلسلوں میں پھنسا ہوا ہے،اسے شیطانی دخل کا بہت اندیشہ ہوتا ہے اور اس امر کا زیادہ امکان ہوتاہے کہ وہ اس طرح سے نقصان اٹھائے اور شیطان اسے زخمی کردے۔مثلاًکبھی کوئی منصوبہ باندھتا ہے کہ فلاں شخص میری فلاں غرض اور مقصد میں بڑا مخل ہے،اسے ماردیاجائے یا فلاں شخص نے مجھے تو کر کے بلایا ہے اس کا بدلہ لیا جائے ۔اور اس کی ناک کاٹ دی جائے۔غرض اسی قسم کے منصوبوں اور ادھیڑبن میں لگا رہتا ہے۔یہ مرض سخت خطر ناک ہے۔وہ نہیں سمجھتا کہ ایسی باتوں سے نفس کا کیا نقصان کر رہا ہوں اور اس سے میری اخلاق اور روحانی قوتوں پر کس قسم کا بڑا اثر پڑرہا ہے۔اس لیے اس قسم کے خیالات سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔جب کبھی کوئی ایسابیہودہ سلسلہ خیالات شروع ہو،تو فوراً اس کے رفع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔استغفار پڑھو۔لاحول کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی مدد اور توفیق چاہواور خداتعالیٰ کی کتاب کے پڑھنے میں اپنے آپ کو مصروف کر دو اور یہ سمجھ لو کہ اس قسم کے خیالی سلسلہ سے کچھ بھی فائدہ نہیں بلکہ سراسر نقصان ہی نقصان ہے۔اگر دشمن مر بھی جاوے تو کیا اور زندہ رہے تو کیا؟ نفع ونقصان کا پہنچانا خداتعالیٰ کے قبضہ واختیار میں ہے۔کوئی شخص کسی کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔سعدؔی نے گلستان میں ایک حکایت لکھی ہے کہ نوشیروؔاںبادشاہ کے پاس کوئی شخص خوشخبری لے کر گیا کہ تیرافلاں دشمن مارا گیا ہے اور اس کا ملک اور قلعہ ہمارے قبضہ میں آگیا ہے۔نوشروؔاںنے اس کا کیا اچھا جواب دیا ؎
مرابمرگ عدوجائے شادمانی نیست کہ زندگی مانیزجاودانی نیست
پس انسان کو چاہیے کہ اس امر پر غور کرے کہ اس قسم کے منصوبوں اور ادھیڑوبن سے کیا فائدہ اور کیا خوشی۔یہ سلسلہ تو بہت ہی خطرناک ہے اور اس کاعلاج توبہ،استغفار،لاحول اور خداتعالیٰ کی کتاب کا مطالعہ ،بیکاری اور بے شغلی میں اس قسم کا سلسلہ بہت لمبا ہو جایا کرتا ہے۔
دوسری قسم کلام نفس کی امانی ہے۔یہ سلسلہ بھی چونکہ بے جاخواہشوں کو پیدا کرتا ہے اور طمعؔ،حسدؔاور غرضی کے امراض اس سے پیدا ہوتے ہیں۔اس لیے جونہی کہ یہ سلسلہ پیدا ہو۔فوراً اس کی صف لپیٹ دو۔میں نے یہ