نقش قدم پر چلو اور ایک ذرہ بھر بھی ادھر یا ادھر ہونے کی کوشش نہ کرو۔ جماعت احمدیہ کے قیام کا مقصد غرض منعم علیہم لوگوں میں جو کمالات ہیں اور صراط الذین انعمت علیہم(الفاتحہ:۷)میں جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے۔ان کو حاصل کرنا ہر انسان کا مقصد ہے اور ہماری جماعت کو خصوصیت سے اس طرف متوجہ ہونا چاہیے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کے قائم کرنے سے یہی چاہا ہے کہ وہ ایسی جماعت تیار کرے جیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تیار کی تھی تا کہ اس آخری زمانہ میں یہ جماعت قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سچائی اور عظمت پر بطور گواہ ٹھہرے۔ مقام نبوت ان کمالات میں سے جو منعم علیہم گروہ کو دئے جاتے ہیں۔پہلا کمال نبوت کا کمال ہے۔جو بہت ہی اعلیٰ مقام پر واقع ہے۔ہمیں  افسوس ہے کہ وہ الفاظ نہیں ملتے جن میں اس کمال کی حقیقت بیان کر سکیں۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر کوئی چیز اعلیٰ ہو اس کے بیان کرنے کے واسطے اسی قدر الفاظ کمزور ہوتے ہیںاور نبوت تو ایسا مقام ہے کہ انسان کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی اور درجہ اور مرتبہ نہیں ہے،تو پھر یہ الفاظ میں کیوں کر بیان ہو سکے۔مختصر اور ناکافی طور پر ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ جب انسانی سفلی زندگی کو چھوڑ دیتا ہے اور بالکل سانپ کی کینچلی کی طرح اس زندگی سے الگ ہو جاتا ہے۔اس وقت اس کی حالت اور ہو جاتی ہے۔وہ بظاہر اسی زمین پر چلتا پھرتا کھاتا پیتا ہے اور اس پر قانون قدرت کا ویسا ہی اثر ہوتا ہے۔جیسے دوسرے لوگوں پر،لیکن باوجود اس کے بھی وہ اس دنیا سے الگ ہوتا ہے اور وہ ترقی کرتے کرتے اس مقام پر جا پہنچتا ہے،جو نقطہ نبوت کہلاتا ہے۔اور جہاں وہ خدا تعالیٰ سے مکالمہ کرتا ہے۔یہ مکالمہ یوں شروع ہوتا ہے کہ جب وہ نفس اور اس کے تعلقات سے الگ ہو جاتا ہے،تو پھر اس کا تعلق محض اللہ تعالیٰ سے ہی ہوتا ہے اور اسی سے وہ مکالمہ کرتا ہے۔ کلام نفس انسان کی حالت ایسی واقع ہوئی ہے کہ یہ کبھی نکمااور بے کار نہیں ہوتا اور نفس کلام سے بھی کبھی فارغ نہیں ہوتا ہے۔نفس اور شیطان ہی سے اس کا مکالمہ شروع رہتا ہے۔اگر کوئی اور بات کرنے والا نہ ہو۔بعض لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک انسان بالکل خاموش ہے،لیکن درحقیقت وہ خاموش نہیں رہتا۔اس کا سلسلہ کلام اپنے نفس سے شروع ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ بہت ہی لمبا ہوتا ہے۔اور شیطانی رنگ میں اسے خود لمبا کرتا ہے اور بے شرمی سے اسے لمبا ہونے دیتا ہے۔یہ سلسلہ کلام کبھی خیالی فسق کے رنگ میں ہوتا ہے اور کبھی بے ہودہ اور جھوٹی تمناوں کے رنگ میں اور اس سے وہ کبھی فارغ نہیں رہتا۔جب تک کہ اس سفلی زند گی کو نہ چھوڑ دے۔یہ بھی یاد رکھو کہ اس قسم کے خطرات اور خیالات کا سلسلہ جسے