اگر انسان ان چار قسم کے کمالات کو حاصل کر لے گا،تو گویا دُعامانگنے اور خلق انسانی کے حق کواداکردے گا اور ان استعدادوںاور قویٰ کے بھی کام میںلانے کا حق ادا ہو جائے گا۔جو اس کو دی گئی ہیں۔ آیت انعمت علیہم کی تفسیر اس بات کو کبھی بھُولنانہیںچاہیے کہ قرآن شریف کے بعض حصے دوسرے حصوں کی تفسیر اور شرح ہیں۔ ایک جگہ ایک امربطریق اجمال بیان کیا جاتا ہے، تو دوسری جگہ وُہی امر کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔گویا دوسرا پہلے کی تفسیر ہے۔پس اس جگہ جو یہ فرمایا:صراط الذین انعمت علیہم(الفاتحہ:۷)تو یہ بطریق اجمال ہے، لیکن دوسرے مقام پر منعم علیہم کی خود ہی تفسیر کر دی ہے۔من النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین(النساء:۷۰)منعم علیہم لوگ چار قسم کے ہوتے ہیں۔نبی، صدیق،شھید،صالح،انبیاء ؑ میں یہ چاروں شاخیںجمع ہوتی ہیں۔کیونکہ یہ اعلیٰ کمال ہے۔ہر ایک انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کمالات کے حاصل کرنے کے لیے جہاںتک مجاہدہ صحیحہ کی ضرورت ہے اس طریق پر جو آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اپنے عمل سے دکھادیا ہے۔کوشش کرے۔ آنحضرت کی راہ کو ہر گز نہ چھوڑو میںیہ بھی تمھیںبتادیناچاہتا ہوںکہ بہت سے لوگ ہیںجو اپنے تراشے ہوئے وظائف اور اداکے ذریعہ سے ان کمالات کو حاصل کرنا چاہتے ہیںیا خداتعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرنا چاہتے ہیں،لیکن میںتمھیں کہتا ہوںکہ جو طریق آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اختیارنہیں کیا۔وہ محض فضول ہے۔آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلّم سے بڑھ کر منعم علیہم کی راہ کاسچا تجربہ کار اور کون ہو سکتا ہے۔جن پر نبوّت کے بھی سارے کمالات ختم ہو گئے۔آپؑ نے جو راہ اختیار کی وہ بہت ہی صحیح اور اقرب ہے۔اس راہ کو چھوڑکر دوسری راہ ایجاد کرنا،خواہ وہ بظاہر کتنی ہی خوش کُن معلوم ہوتی ہو۔میری رائے میںہلاکت ہے اور خداتعالیٰ نے مجھ پر ایسا ہی ظاہر کیا ہے۔ آنحضرت سلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سچی اتباع سے خد املتا ہے اور آپؐ کی اتباع کو چھوڑ کر خواہ کوئی ساری عمریں ٹکریں مارتارہے،گوہر مقصود اس کے ہاتھ نہیں آسکتا؛چنانچہ سعدی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اتباع کی ضرورت بدیں الفاظ بتاتا ہے: ؎ بزہدو رع وصدق وصفا ولیکن میفزائے بر مصطفیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی راہ کو ہر گز نہ چھوڑو۔میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں نے قسم قسم کے وظیفے تیار کر لئے ہیں۔الٹے سیدھے لٹکتے ہیں اور جوگیوں کی طرح راہبانہ طریقے اختیار کئے جاتے ہیں،لیکن یہ سب بے فائدہ ہیں۔انبیاء کی یہ سنت نہیں کہ وہ الٹے سیدھے لٹکتے رہیں یا نفی اثبات کے ذکر کریں اور ارہ کے ذکر کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اسی لئے اسوہ حسنہ فرمایا لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ(الاحزاب:۲۲)آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے