لئے تیار کیا ہے،اس کے حاصل کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے استعدادیں بھی عطا کیں ہیں،اگر وہ استعدودیں تو عطا کرتا،لیکن سامان نہ ہوتاتب بھی ایک نقص تھا۔یا اگر سامان تو ہوتا ،لیکن استعدادیں نہ ہوتیں،تو کیا فائدہ تھا؟مگر نہیں،یہ بات نہیں ہے۔اس نے استعدا د بھی دی اور سامان بھی مہیا کیا۔جس طرح پر ایک طرف روٹی کا سامان پید ا کیا ،تو دوسری طرف آنکھ،زبان،دانت اور معدہ دے دیا اور جگر اور امعاء کو کام میں لگا دیا اور ان تمام کاموں کا مدار غذا پر رکھ دیا۔اگر پیٹ کے اندر ہی کچھ نہ جائے گا،تو دل میں خون کہاں سے آئے گا۔کیلوس کہاں سے بنے گا۔
اسی طرح پر سب سے اول اس نے یہ فضل کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اسلام جیسا مکمل دین دے کر بھیجا اور آپ کو خاتم النبینؐ ٹھہرایا اور قراان شریف جیسی کامل اور خاتم الکتاب عطا فرمائی۔جس کے بعد نہ تو قیامت تک کوئی کتاب آئے گی اور نہ کوئی نیا نبی نئی شریعت لے کر اائے گا۔پھر جو قویٰ سوچ اور فکر کے ہیں۔ان سے اگر ہم کام نہ لیں اور خدا تعالیٰ کی طرف قدم نہ اٹھائیں تو کس قدر سستی اور کاہلی اور ناشکری ہے۔
انسانی زندگی کا مقصد غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے اس پہلی سورت میں ہمارے لئے کس قدر مبسوط طریق پر فضل کی راہ بتا دی ہے۔اسی
صورت میں جس کا نام خاتم الکتاب اور ام الکتاب بھی ہے۔صاف طور پر بتا دیا ہے کہ انسانی زندگی کا مقصد کیا ہے اور اس کے حصول کی کیا راہ ہے؟ایاک نعبد(گویا انسانی فطرت کا اصل تقاضا اور منشاء ہے اور اسے ایاک نستعین(الفاتحہ:۵)پر مقدم کر کے یہ بتایا ہے کہ پہلے ضروری ہے کہ جہاںتک انسان کی اپنی طاقت، ہمت اور سمجھ میںہو،خداتعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں سے پورا کام لے اور اس کے بعدپھر خداتعالیٰ سے اس کی تکمیل اور نتیجہ خیز ہونے کے لیے دُعا کرے۔انسانی زندگی کا مقصداور غرض صراط مستقیم پر چلنا اور اس کی طلب ہے۔جس کو اس سُورۃمیںان الفاظ میںبیان کیا گیا ہے۔ا ھدنا الصراط المستقیم(الفاتحہ:۶)صراط الذین انعمت علیہم(الفاتحہ:۷)یا اللہ۔ہم کو سیدھی راہ دکھا۔ان لوگوں کی راہ جن پر تیرا انعام ہوا۔یہ وہ دُعا ہے جو ہر نماز میںاور ہر رکعت میںمانگی جاتی ہے۔اس دُعا کا اس قدر تکرار ہی اس کی ضرورت کو ظاہرکرتا ہے
جماعت احمدیہ کا نصب العین ہماری جماعت یاد رکھے کہ یہ معمولی سی بات نہیںہے اور صرف زبان سے طوطے کی طرح ان
الفاظ کارٹ دینا اصل مقصُودنہیںہے،بلکہ یہ دُعاانسان کو انسان کامل بنانے کا ایک کارگر اور خطانہ کرنے والا نسخہ ہے،جسے ہر وقت نصب العین رکھنا چاہیے اور تعویذکی طرح مدنظر رکھنا چاہیے۔اس آیت میںچار قسم کے کمالات کے حاصل کرنے کی التجاہے۔