ہمیں ان برکات سے حصہ نہیںملے گا۔خداتعالیٰ بڑا کریم ہے۔اس کی کریمی کا بڑا گہرا سمندر ہے،جو کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتا۔اور جس کو تلاش کرنے والا اور طلب کرنے والا کبھی بھی محروم نہیں رہا۔اس لئے تمہیں چاہیے کہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو اور اس کے فضل کو طلب کرو۔ہر ایک نماز میں دعا کے لئے کئی ایک مواقع ہیں۔رکوع ،قیام، قعدہ، سجدہ وغیرہ۔پھر آٹھ پہروں میں پانچ مرتبہ نماز پڑھی جاتی ہے۔فجر،ظہر ،عصر ،مغرب،عشاء۔ان پر ترقی کر کے اشراق اور تہجد کی نمازیں ہیں۔یہ سب دعا ہی کے لئے مواقع ہیں۔
نماز کی اصلی غرض اور مغز دعا ہے نماز کی اصلی غرض اور مغز دعا ہی ہے۔اور دعا مانگنا اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت کے عین مطابق ہے۔
مثلاً ہم عام طور پر دیکھتے ہیں کہ جب بچہ روتا دھوتا ہے اور اضطراب ظاہر کرتا ہے،تو ماں کس قدر بے قرار ہو کر اس کو دودھ دیتی ہے۔الوہیت اور عبودیت میں اسی قسم کا ایک تعلق ہے،جس کو ہر شخص سمجھ نہیں سکتا۔جب انسان اللہ تعالیٰ کے دروازے پر گر پڑتا ہے اور نہایت عاجزی اور خشوع خضوع کے ساتھ اس کے حضور اپنے حالات کو پیش کرتا ہے اور اس سے اپنی حاجات کو مانگتا ہے،تو الوہیت کا کرم جوش میں آتا ہے اور ایسے شخص پر رحم کیا جاتا ہے۔
گریہ وزاری اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کا دودھ بھی ایک گریہ کو چاہتا ہے،اس لئے اس کے حضور رونے والی آنکھ پیش کرنی چاہیے۔بعض لوگوں کاخیال ہے
کہ اللہ تعالیٰ کے آگے رونے دھونے سے کچھ نہیں ملتا۔بالکل غلط اور باطل ہے۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی صفات قدرت و تصرف پر ایمان نہیں رکھتے۔اگر ان میںحقیقی ایمان ہوتا،تو وہ ایسا کرنے کی جرات نہ کرتے۔جب کبھی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حضور آیا اور اس نے سچی توبہ کے ساتھ رجوع کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اس پر فضل کیا ہے۔یہ کسی نے بالکل سچ کہا ہے ؎
عاشق کہ شد کہ یار بحالش نظر نہ کرو اے خواجہ درد نیست وگرنہ طبیب ہست
خدا تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ تم اس کے حضور پاک دل لے کر آجاؤ۔صرف شرط اتنی ہے کہ اس کے مناسب حال اپنے آپ کو بناؤ۔اور وہ سچی تبدیلی جو خدا تعالیٰ کے حضور جانے کے قابل بنا دیتی ہے،اپنے ندر کر کے دکھاؤ۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے اندر عجیب عجیب قدرتیں ہیں اور اس میں لا انتہا فضل وبرکات ہیں،مگر ان کے دیکھنے اور پانے کے لئے محبت کی آنکھ پیدا کرو۔اگر سچی محبت ہو تو خد اتعالیٰ بہت دعائیں سنتا ہے اور تائیدیں کرتا ہے۔لیکن شرط یہی ہے کہ محبت اور اخلاص خدا تعالیٰ کے ساتھ ہو۔
خدا کی محبت اور فضل خدا کی محبت ایسی شے ہے جو انسان کی سفلی زندگی کو جلا کر اسے ایک نیا اور مصفیٰ انسان بنا دیتی ہے۔اس وقت وہ کچھ دیکھتا ہے جو پہلے نہیں دیکھتا تھا اور وہ کچھ سنتا ہے جو پہلے نہیں سنتا تھا۔غرض خدا تعالیٰ نے جو کچھ مائدہ فضل وکرم انسان کے