پر بد گمانی ہے۔خدا تعالیٰ کے حضور کیا کمی ہے۔اس کے پاس سرکار کی طرح کوئی محدود نوکریاں تو نہیں ہیں جو ختم ہو جائیں۔بلکہ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچے تعلق پیدا کر لے وہ ان فیوض سے بہر وار ہو سکتا ہے جو پہلے راستبوزوں کو دئے گئے تھے؎ بر کریماں کار ہا دشوار نیست۔اللہ تعالیٰ نے جو اپنے محبوب بندوں کا نام ولی رکھا ہے تو کیا ولی بنانا خدا تعالٰٰ کے پاس مشکل ہو سکتا ہے۔ہر گز نہیں،بلکہ یہ اس کے لئے نہایت سہل امر ہے۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انسان راستی کے ساتھ اس کی راہ میں قدم رکھنے والا ہو اور اس کے راستے میںصبرو استقلال اور وفاداری کے ساتھ چلنے والا ہو ،کوئی دکھ تکلیف اور مصیبت اس کے قدم کو ڈگمگا نہ سکے۔جب انسان خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرتا ہے اور ان باتوں سے الگ ہو جاتا ہے جو خدا تعالیٰ کی نہ رضامندی کا موجب ہوتی ہے۔اور سچی پاکیزگی اور طہارت اختیار کر لیتا ہے اور گندی باتوں سے پرہیز کرتا ہے،تو خدا تعالیٰ بھی اس کے ساتھ ایک تعلق پیدا کر لیتا ہے اور اس کے قریب ہو جاتا ہے،لیکن اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ سے دوری اختیار کرے اور گندگی سے نکلنے کی کوشش نہ کرے،تو پھر خدا تعالیٰ بھی اس کی پرواہ نہیں کرتا۔جیسے فرمایا:فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبھم(الصف:۶)
سلوک کی آسان راہ ہماری جماعت کو چاہیے کہ ہمت نہ ہار بیٹھے۔یہ بڑی مشکلات نہیں ہیں۔میں تمہیں یقیناً کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے ہماری
مشکلات آسان کر دی ہیں۔کیونکہ ہمارے سلوک کی راہیں اور ہیں،ہمارے ہاں یہ حالت نہیںہے کہ کمریں جھک جایں یا ناخن بڑھا لیں،یا پانی میں کھڑے رہیں اور چلہ کشیاں کرتے رہیں یا اپنے ہاتھ خشک کر لیں اور یہاں تک نوبت پہنچے کہ اپنی صورتیں بھی مسخ ہو جائیں۔ان صورتوں کے اختیار کرنے سے بعض لوگ بخیال خویش با خدا بننا چاہتے ہیں،لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ایسی ریاضتوں سے خدا کیا ملنا ہے،انسانیت بھی جاتی رہتی ہے ،لیکن ہمارے سلوک کا یہ ہر گز طریق نہیں ہے،بلکہ اسلام نے اس کے لئے نہایت آسان راہ رکھ دی ہے اور وہ کشادہ راہ وہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوںفرمایا ہے:اھدنا الصراط المستقیم(الفاتحہ:۶)یہ دعا جو اللہ تعالیٰ نے ہم کو سکھلائی ہے۔تو ایسے طور پر نہیں کہ دعا تو سکھلا دی،لیکن سامان کچھ بھی مہیا نہ کیا ہو ۔نہیں بلکہ جہاں دعا سکھلائی ہے وہاں اس کے لئے سامان بھی مہیا کر دیے ہیں۔چنانچہ اس سے اگلی صورت میں اس کی قبولیت کا اشارہ ہے،جہاں فرمایا:ذالک الکتاب لا ریب فیہ ھدیً للمتقین(البقرہ:۳)یہ گویا ایسی دعوت ہے جس کا سامان پہلے سے تیار کر رکھا ہے۔
غرض یہ قویٰ جو انسان کو دئے گئے ہیں۔اگر وہ ان سے کام لے تو یقیناً ولی ہو سکتا ہے۔میںیقیناً کہتا ہوں کہ اس امت میں بڑی قوت کے لوگ آتے ہیں جو نور اور صدق ووفا سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔اس لئے کوئی شخص اپنے آپ کو ان قویٰ سے محروم نہ سمجھے۔کیا اللہ تعالیٰ نے کوئی فہرست شائع کر دی ہے۔جس سے یہ سمجھ لیا جائے کہ