بے بہرہ ہیں اور وہ روشنی اور نور جو حقیقی علم سے ملتا ہے۔ان میں بالکل پایا نہیں جاتا ،بلکہ ایسے لوگ بالکل خسارہ اور نقصان میں ہیں۔یہ اپنی آخرت دخان اور تاریکی سے بھر لیتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمیٰ(بنی اسرائیل:۷۳)جو آدمی اس دنیا میں اندھا ہے،وہ آخرت مین بھی اندھا اٹھایا جائے گا۔یعنی جس کو یہاں علم بصیرت اور معرفت نہیں دی گئی،اسے وہاں کیا علم ملے گا۔اللہ تعالیٰ کو دیکھنے والی آنکھ اسی دنیا سے لے جانی پڑتی ہے۔جو آدمی یہاں ایسی آنکھ پیدا نہیں کرتا،اسے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ وک آخرت کے دن دیکھ لے گا۔ لیکن جن لوگوں کو سچی معرفت اور بصیرت دی جاتی ہے اور وہ علم،جس کا نتیجہ خشیتہ اللہ ہے،عطا کیا جاتا ہے۔وہ وہی لوگ ہیں جن کو اس حدیث میں انبیاء بنی اسرائیل سے تشبیہ دی گئی ہے۔ سچے علوم کا سرچشمہ قرآن مجید ہے اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سچے علوم کا منبع اور سر چشمہ قرآن مجید میں اس امت کو دیا ہے۔جو  شخص ان حقائق اور معارف کو پا لیتا ہے،جو قرآن شریف میں بیان کئے گئے ہیں اور جو محض حقیقی تقویٰ اور خشیت الہی سے پیدا ہوتے ہیں،اسے وہ علم ملتا ہے جو اس کو انبیاء بنی اسرائیل کا مثیل بنا دیتا ہے۔ہاں یہ بات بالکل سچ ہے کہ ایک شخص کو جو ہتھیار دیا گیا ہے اگر وہ اس سے کام نہ لے تو یہ اس کا پان قصور ہے نہ کہ اس ہتھیار کا ۔اس وقت دنیا کی یہی حالت ہو رہی ہے۔مسلمانوں نے باوجودیلہ قرآن شریف جیسی بے مثل نعمت ان کے پاس تھی جو ان کو ہر گمراہی سے نجات بخشتی اور ہر تاریکی سے نکالتی ہے،لیکن انہوں نیا س کو چھوڑ دیا اور اس کی پاک تعلیموں کی کچھ پرواہ نہ کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام سے بالکل دور جا پڑے ہیں۔یہاں تک کہ اگر اب ان کے سامنے حقیقی اسلام پیش کیا جاتا ہے تو چونکہ وہ اس سے بکلی بے خبر اور غافل ہیں،اس لئے حقیقی مومن کو بھی کافر کہہ دیتے ہیں ۔ ولی بننے کے لئے خدا داد قویٰ سے کام لو بہت سے لوگ ہیں جو اوباشانہ اور عیاشانہ حالات زندگی رکھتے ہیں اور وہ دنیا کا فخر، دنیا کی عزت اور املاک و دولت چاہتے ہیں ۔اس قسم کی آرزوں اور تمناوں اور ان کے پورا کرنے کی تدبیروں اور تجویزوں ہی میں اپنی عمر کھو دیتے ہیں۔ان کی آرزوں کی انتہا نہیں ہوتی کہ موت پیغام آجاتا ہے۔اب ان کو بھی خدا تعالیٰ نے قویٰ دئے تھے۔انہیں قویٰ سے کام لیتے تو حق کو پا لیتے۔اللہ تعالیٰ نے تو کسی سے بھی بخل نہیں کیا،لیکن ایسے لوگ خود قویٰ سے کام نہیں لیتے۔یہ ان کی اپنی بد بختی ہے۔نیک بخت اور مبارک ہے وہ شخص جو ان خدادا قویٰ سے کام لے۔بہت سے آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم خدا تعالیٰ سے ڈرو اور اس کے اوامر کی پیروی کرو اور نوہی سے پرہیز کرو۔تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے کیا ولی بننا ہے؟ اس قسم کا کلمہ میرے نزدیک کلمہ کفر ہے۔یہ خدا تعالیٰ