اولیا ء اللہ کے انکار سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔یہودیوں پر جو آفت آئی اور وہ مغضوب ہو گئے۔اس کی بھاری وجہ یہی تھی کہ وہ خدا تعالیٰ کے ماموروں اور مرسلین سے انکار کرتے رہے اور ہمیشہ ان کی مخالفت اور ایذا رسانی میں حصہ لیتے رہے۔جس کا نجام یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا غضب ان پر نازل ہوا۔
آنحضرتؐ کے خاتم النبین ہونے کا ایک اور پہلو پھر میں اپنے کلام کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خاتم النبین ہونے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس امت میں بڑی بڑی استعدادیں رکھ دی ہیں۔یہاں تک کہ علماء امتی کانبیا ء بنی اسرائیل بھی احادیث میں آیا ہے؛اگرچہ محدثین کو اس پر جرح ہو،مگر ہمارا نور قلب اس حدیث کو صحیح قرار دیتا ہے اور ہم بغیر چون چرا کے اس کو تسلیم کرتے ہیں اور کسی بزرگ نے بذریعہ کشف بھی اس حدیث کا نکار نہیں کیا ،بلکہ اگر کچھ کیا ہی ہے تو تصدیق کی ہے۔اس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ میری امت کے علماء ظاہری بنی اسرائیل کے نبیوں جیسے ہیں۔علماء کے لفظوںسے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔بعض لوگ الفاظ پر اڑ بیٹھتے ہیں اور ان کی معنی کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم کی تفسیر سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔
عالم ربانی کی تعریف یاد رکھو کہ علم ربانی سے یہ مراد نہیں ہوا کرتی کہ وہ سرف نحو یا منطق میںبے مثل ہو بلکہ عالم ربانی سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو
ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور اس کی زبان بے ہودہ نہ چلے،مگر موجودہ زمانہ اس قسم کا آگیا ہے کہ مردہ شو،تک بھی اپنے آپ کو علماء کہتے ہیں اور اسی لفظ کو اپنی ذات میں داخل کر لیا ہے۔اس طرح پر اس لفظ کی بڑی تحقیر ہوئی ہے اور خدا تعالیٰ کے منشاء اور مقصد کے خلاف اس کا مفہوم لے لیا گیا ہے؛ورنہ قرآن شریف میں تو علماء کی یہ صفت بیان کی گئی ہے ۔انما یخشی اللہ من عبادہ العلموء ا(فاطر:۲۹)یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے۔اللہ تعالیٰ کے وہ بندے ہیں جو علماء ہیں۔اب یہ دیکھنا ضروری ہو گا کہ جن لوگوں میں یہ صفات خوف وخشیت اور رتقویٰ اللہ کی نہ پائی جائیں وہ ہر گز ہر گز اس خطاب سے پکارے جانے کے مستحق نہیں ہیں۔
اصل میں علماء عالم کی جمع ہے اور علم اس چیز کو کہتے ہیں جو یقینی اور قطعی ہو اور سچا علم قرآن شریف سے ملتا ہے۔یہ نہ یونانیوں کے فلسفے سے ملتا ہے۔نہ حال کے انگلستانی فلسفہ سے،بلکہ یہ سچا ایمانی فلسفہ قرآن کریم کے طفیل سے ملتا ہے۔مومن کا کملا اور معراج یہی ہے کہ وہ علماء کے درجے پر پہنچے اور ایس حق الیقین کا وہ مقام حاصل ہو جو علم کا نتہائی درجہ ہے،لیکن جو لوگ علوم حقہ سے بہرور نہیں ہیں اور معرفت اور بصیرت کی راہیں ان پر کھلی ہوئی نہیں ہیںوہ گو اپنے منہ سے اپنے آپ کو عالم کہیں مگر فی الحقیقت ایسے لوگ علم کی خوبیوں اور صفات سے بالکل