بلکہ اپنے نماز روزے پر اسے ایک گھمنڈ ہوتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کدا تعالیٰ کا غضب دن بدن بڑھتا جاتا ہے اور وہ بجائے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے دن بدن اللہ تعالیٰ سے دور ہٹتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ بالکل راندہ درگاہ ہو جاتاہے۔وہ شخص جو بالکل فنا کی حالت میں ہے اور آستانہ الوہیت پر گرا ہوا ہے اور آغوش ربوبیت میں پرورش پا رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمت نے اسے ڈھانپ لیا ہے۔یہاں تک کہ اس کا بات کرنا اللہ تعالیٰ کی بات کرنا ہوتا ہے اور اس کو دوست خدا تعالیٰ کا دوست اور اس کا دشمن خدا تعالیٰ کا دشمن ہو جاتا ہے۔پس ایسے مومن کامل کا دشمن ہو کر کوئی شخص کیونکر مومن کامل ہو سکتا ہے اور ایسے ہی مومن کامل کی دشمنی سے اس کا ایمان سلب ہو جاتاہے۔اور اسے مغضوب الیہم میں سے بنا دیا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے ماموروں اور اولیاء اللہ کی مخالفت اور ان کی ایذارسانی کبھی بھی اچھا پھل نہیں دے سکتی۔جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ میں ان کو ستا کر اور دکھ دے کر بھی آرام پا سکتا ہوں وہ سخت غلطی کرتا ہے اور اس کو نفس اسے دھوکہ دے رہا ہے۔
دوسری وجہ سلب ایمان کی یہ ہوتی ہے کہ ولی خدا تعالیٰ کے مقرب ہوتے ہیں،کیونکہ ولی کے معنی قریب کے ہوتے ہیں۔یہ لوگ گویا اللہ تعالیٰ کے سامنے دیکھتے ہیں اور دوسرے لوگ ایک محبوب کی طرح ہوتے ہیں،جن کے سامنے ایک دیوار حائل ہے۔خدا تعالیٰ نے اسے آنکھیں دی ہیں اور اسے ایسی بصیریت عطا کی ہے کہ اس کا ہر قول وفعل علی وجہ البصیرت ہوتا ہے۔اعمیٰ کی طرح نہیں،جو ٹھوکریں کھات ارہتا ہے اور ٹکریں مارتا رہتا ہے،بلکہ اس کے دل پر توخدا تعالیٰ کا نزول ہوتا ہے۔اور ہر قدم پر وہی اس کا رہنما اور متکفل بن جاتا ہے۔شیطان کی شرارت کی تاریکی اس کے نزدیک نہیں آسکتی،بلکہ ظلمت جل کر بالکل ختم ہو جاتی ہے اور اسے سب کچھ روشن نظر آتا ہے۔وہ جو کچھ بیان کرتا ہے وہ حقائق اور معارف ہوتے ہیں۔وہ احادیث شریف کی جو تاویل کرتا ہے۔وہ صحیح ہوتی ہے،کیونکہ وہ براہ راست بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سن لیتا ہے اور اس طرح وہ اس کی اپنی روایت ہوتی ہے؛حالانکہ دوسرے لوگوں کو تیرہ سوبرس کے وسائط سے کہنا پڑتا ہے ۔پھر ان ہر دو میں کیا نسبت ہو سکتی ہے۔ولی اللہ کا سارا ذخیرہ پاک معارف اور نور ہوتا ہے،لیکن جو شخص اس سے عداوت کرتا ہے،وہ اس کی ہر بات کی تکذیب کرتا ہے۔گویا کہ وہ یہ شرط کر لیتا ہے کہ وہ ولی اللہ کے ہر نکتہ معرفت کا نکار کرے گا۔پھر وہ اس کی ہر بات کا نکار کرتا رہتا ہے۔اس طرح پر اس کی ایمانی عرفانی دیوار کی اینٹیں گرنی شروع ہو جاتی ہیں۔جب ایک شخص صراط مستقیم بتلا رہا ہے اور معارف اور حقائق کھول کھول کر بیان کر رہا ہے اور دوسرا شخص اس کی تکذیب کرتا ہے۔اس مقابلہ میں انجام کار نتیجہ کیا ہو گا؟یہی کہ(موخر الذکر)قرآن شریف کے عقائد کے مجموعہ کی تکذیب کرتا ہے۔کرتا رہے گا اور اسی لیے وہ خدا تعالیٰ کا بھی منکر ہوجاتا ہے اور اسی طرح اس کا ایمان سلب ہو جائے گا۔
غرض اس بات میں ذرا بھی شک نہیں ہے کہ اولیاء اللہ کے انکار سے سلب ایمان ہو جاتا ہے۔اس لئے