کہتے ہیں کہ نبی کا منکر تو کافر ہوتا ہے۔مگر ولی کے انکار سے کفر کیونکر لازم ہوتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ایک شخص کے انکار سے کیا حرج ہے؟یہ لوگ انکار اولیاء اللہ کو معمولی بات سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے کیا بگڑتا ہے؟مگر حقیقت یہ ہے کہ اولیا ء اللہ کا انکار سلب ایمان کا ماوجب ہوتا ہے۔جو شخص اس معاملہ میں غور کرے گا ،اسے اچھی طرح نظر آجائے گا ،بلکہ ایسے طور پر نظر آجائے گا،جیسے شیشے میں کوئی شکل دیکھتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ سلب ایمان دو طرح پر ہوتا ہے۔ایک تو انبیا کے انکار سے،جس سے کسی کو بھی انکار نہیں اور یہ مسلم بات ہے۔دوسرا اولیاء اللہ اور مامورین کے انکار سے سلب ایمان ہوتا ہے۔ انبیا ء کے انکار سے سلب ایمان تو بالکل واضح امر ہے اور سب جانتے ہیں،لیکن پھر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انبیاء کے انکار سے سلب ایمان اس لئے ہوتا ہے کہ نبی کہتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں یہ میرا قول ہے۔یہ میرا نبی ہے۔اس پر ایمان لاو۔میری کتاب کو مانو اور ،میرے احکام پر عمل کرو۔جو شخص اللہ تعالیٰ کی کتاب پر ایمان نہیںلاتا اور ان وصایا اور حدود پر جو اس میں بیان کئے گئے ہیں،علم نہیں کرتا ہے۔وہ ان سے منکر ہو کر کافر ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ صورت جس سے اولیا ء اللہ کے انکار سے سلب ایمان ہوتا ہے۔اور ہے۔ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:من عاد لی ولیاًفذنتہ للحرب۔یعنی جو شخص میرے ولی کے ساتھ دشمی کرتا ہے ،وہ گویا میرے ساتھ جنگ کرنے کو تیار ہوتا ہے۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کوئی شخص کسی کے ساتھ محبت کرتا ہے اور محبت بھی ایسی جیسی کوئی اپنی اولاد سے کرتا ہے۔اور ایک دوسرا شخص بار بار کہے کہ یہ شخص مر جائے یا اس کی نسبت اور کسی قسم کی دلآزاری کی باتیں کہے اور اسے تکلیف دے تو وہ شخص کیونکر ایسی باتوں سے خوش ہو سکتا ہے اور وہ باپ جس کے بچے کے لئے وہ شخص بد دعائیں کر رہا ہو یا دیگر رنجدہ کلمات اس کے بچے کے لئے استعمال کر رہا ہو ایسے شخص سے کب محبت کر سکتا ہے؟اسی طرح پر اولیا ء اللہ بھی اطفال اللہ کا رنگ رکھتے ہیں،کیونکہ انہوں نے جسمانی بلوغ کا چولا اتارا ہوتا ہے اوراللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت میں پرورش پاتے ہیں۔وہ خود ان کا متولی متکفل اور ان کے لئے غیرت رکھنے والا ہوتا ہے۔جب کوئی شخص(خواہ وہ کیسا ہی نماز روزے رکھنے والا ہو) ان کی مخالفت کرتا ہے اور ان کے دکھ دینے پر کمر بستہ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی غیرت جوش مارتی ہے اور ان کی مخالفت کرنے والوں پر اس کا غضب بڑھکتا ہے۔اس لئے کہ انہوں نے اس کے ایک محبوب کو دکھ دینا چاہا ۔اس وقت پھر نہ وہ نماز کام آتی ہے اور نہ وہ روزہ۔کیونکہ نماز اور روزہ کے ذریعہ سے اسی ذات کو خوش کرنا تھا۔جس کو ایک دوسرے فعل سے ناراض کر لیا ہے۔پھر وہ رضا کا مقام کیونکر ملے۔جب تک غضب الہی دور نہ ہو۔وہ اولیا ء اللہ کا مخالف نادان ان اسباب غضب سے ناواقف ہوتا ہے،