پردہ ہو گا، ٹھوکر سے بچیں گے ۔ایک منصف مزاج کہہ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیر مرد اور عورت اکٹھے بلا تامل اور بے محابا مل سکیں ،یسریں کریں۔ کیونکر جذبات نفس سے اضطراراً ٹھوکر نہ کھائیںگے۔ بسا اوقات سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیر مرد اور عورت کے ایک مکان میں تنہارہنے کو حالانکہ دروازہ بھی بند ہو۔ کوئی عیب نہیںسمجھتیں۔یہ گویا تہذیب ہے، انہی بد نتائج کو روکنے کے لئے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے کی اجازت ہی نہ دیں۔ جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں ۔ایسے موقع پر یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح غیر محرم مرد وعورت ہر دو جمع ہوں ۔تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے۔ ان ناپاک نتائج پر غور کرو ۔جو یورپ اس خلیع الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے۔ بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفانہ زندگی بسر کی جارہی ہے ۔یہ انہی تعلیمات کا نتیجہ ہے اگر کسی چیز کوخیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو ۔لیکن اگرحفاظت نہ کرو۔ اور یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں، تو یاد رکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہو گی۔ اسلامی تعلیم کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ جس نے مرد عورت کو الگ رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلخ نہیں کی جس کے باعث یورپ نے آئے دن کی خانہ جنگیاں اورخود کشیاں دیکھیں۔ بعض شریف عورتوں کا طوائفانہ زندگی بسر کرنا ایک عملی نتیجہ اس اجازت کا ہے جو غیر عورت کو دیکھنے کے لئے دی گئی۔
انسانی قویٰ کی تعدیل اور جائز استعمال
اللہ تعالی نے جس قدر قوی عطا فرمائے،وہ ضائع کر نے کے لیے نہیں دئیے گئے ان کی تعدیل اور جائز استعمال کرنا ہی ان کی نشوو نما ہے۔اسی لیے اسلام نے قوائے رجولیت یا آنکھ کے نکالنے کی تعلیم نہیں دی۔بلکہ ان کا جائز استعمال اور تزکیہ نفس کرایا۔جیسے فرمایاقَدْ اَفْلَحَ الْمُوْمِنُوْنَ(المومنون۲)اور ایسے ہی یہاں بھی فرما یا:متقی کی زندگی کا نقشہ کھینچ کر آخر میں بطور نتیجہ یہ کہا۔وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(البقرہ۲)یعنی وہ لوگ جو تقوی پر قدم مارتے ہیں۔ایمان بالغیب لاتے ہیں۔نماز ڈگمگاتی ہے ۔پھر اسے کھڑا کرتے ہیں۔خدا کے دئیے ہوئے سے دیتے ہیں۔باوجود خطرات نفس بلا سوچے،گزشتہ اور موجودہ کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور آخرکاروہ یقین تک پہنچ جاتے ہیں۔وہ لوگ ہیں جوہدایت کے سرپر ہیں۔وہ ایک ایسی سڑک پر ہیں جو برابر آگے کو جارہی ہے اور جس سے آدمی فلاح تک پہنچتاہے۔پس یہی لوگ فلاح یاب ہیں جو منزل مقصودتک پہنچ جائیں گے اورراہ کے خطرات سے نجات پا چکے ہیں، اس لیے شروع میں ہی اللہ تعالی نے ہمیں تقوی کی تعلیم دے کر ایک کتاب ہم کو عطا کی۔جس میں تقوی کے وصایا بھی دیئے۔
سوہماری جماعت یہ غم کل دنیوی غموں سے بڑھ کر اپنی جان پر لگائے کہ ان میں تقوی ہے یا نہیں ۔
اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کرو
اہل تقوی کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں۔ یہ تقوی کے ایک شاخ ہے ،جس کے ذریعہ سے ہمیں ناجائز غضب کا مقابلہ کرنا ہے، بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لیے آخری اور کڑی منزل غضب سے بچنا