ہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتاہے اوراس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے؟ مگر ہم بصیرت تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں۔ اور خداتعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے ہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی ہیں کرسکتا۔ بجزان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں۔
دُنیا کی مثالوں میں سے ہم ختم نبوت کی مثال اس طرح دے سکتے ہیں کہ جیسے چاند ہلال سے شروع ہوتا ہے اور چودھویں تاریخ پرآکر اُس کاکمال ہوجاتا ہے جب کہ اُسے بدر کہا جاتا ہے۔ اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر کمالاتِ نبوت ختم ہوگئے۔ جو لوگ یہ مذہب رکھتے ہیں کہ نبوت زبردستی ختم ہوگئی اور آنحضرت ؐ کو یونس ؑ بن متیٰ پر بھی ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ اُنہوں نے اس حقیقت کو سمجھا ہی نہیں اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور کمالات کا کوئی علم ہی اُن کو نہیں ہے۔ باوجود اس کمزوری فہم اور کمئی علم کے ہم کو کہتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں۔ میں ایسے مریضوں کو کیا کہوں اوراُن پر کیا افسوس کروں۔ اگر اُن کی یہ حالت نہ ہوگئی ہوتی اور وہ حقیقت اسلام سے بکلی دور نہ جاپڑے ہوتے، تو پھر میرے آنے کی ضرورت کیا تھی؟ ان لوگو کی ایمانی حالتیں بہت کمزورہوگئی ہیں اور وہ اسلام کے مفہوم اور مقصد سے محض ناواقف ہیں؛ ورنہ کوئی وجہ ہیں ہوسکتی تھی کہ وہ اہل حق سے عداوت کرتے جس کا نتیجہ کافربنادیتا ہے۔
اعمالِ صالحہ کی پہچان یہ لوگ سمجھتے نہیں کہ ہم میں کون سی بات اسلام کے خلاف ہے۔ ہم لاالہ الااللہ کہتے ہیں اور نمازیں بھی پڑھتے ہیں
اور روزے کے دنوں میں روزے بھی رکھتے ہیں اور زکوٰۃ بھی دیتے ہیں۔ مگرمَیں کہتا ہوں کہ اُن کے تمام اعمال، اعمالِ صالحہ کے رنگ میں نہیں ہیں، بلکہ محض ایک پوست کی طرح ہیں جس میں مغز نہیں ہے؛ ورنہ اگر یہ اعمالِ صالحہ ہیں تو پھر ان کے پاک نتائج کیوں پیدا نہیں ہوتے؟ اعمالِ صالحہ تو تب ہوسکتے ہیں کہ وہ ہر قسم کے فساد اور ملاوٹ سے پاک ہوں،لیکن اُن میں یہ باتیں کہاں ہیں؟میں کبھی یقین نہیں کر سکتا کہ ایک شخص مومن اور متقی ہو اور اعمال صالح کرنے والا ہو اور وہ اہل حق کا دشمن ہو؛حلانکہ یہ لوگ ہم کو بے قید اور دہریہ کہتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔میں نے اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کیا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے مامور کر کے بھیجا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی کچھ عظمت ان کے دل میں ہوتی،تو ہو انکار نہ کرتے اور اس سے ڈر جاتے کہ ایسا نہ ہو کہ ہم خدا تعالیٰ کے نام کی تخفیف کرنے والے ٹھریں،لیکن یہ تب ہوتا جبکہ ان میں حقیقی اور اصل ایمان اللہ تعالیٰ پر ہوتا اور وہ یوم الجزاء سے ڈرتے اور لا تقف ما لیس لک بہ علم(بنی اسرائیل:۳۷)پر ان کا عمل ہوتا۔
اولیاء اللہ کا انکار سلب ایمان کا موجب ہو جاتا ہے ان کی دماغی قوت اور ایمانی طاقت نے تو یہاں تک انہیں پہنچا دیا ہے کہ وہ