کہ ہم ان کمالات کو پالیں اور یہ بات بھی بھولنی نہیں چاہیے کہ جیسے وہ عظیم الشان کمالات ہم کو دینا چاہتا ہے، اُسی کی موافق اس نے ہمیں قویٰ بھی عطا کیے ہیں۔ کیونکہ اگر اس کے موافق قویٰ نہ دیئے جاتے ۔ تو پھر ہم ان کمالات کو کسی صورت اورحالت میں پاہی نہیں سکتے تھے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی شخص ایک گروہ کی دعوت کرے، توضرور ہے کہ وہ اُس گروہ کی تعداد کے موافق کھانا تیار کرے اور اُسی کے موافق ایک مکان ہو ۔ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ دعوت تو ایک ہزار آدمی کی کرے اور اُن کے بٹھانے کے واسطے ایک چھوٹی سے کُٹیابنادے نہیں۔ بلکہ وہ اُس تعداد کاپورا لحاظ رکھے گا۔ اسی طرح پر خداتعالیٰ کی کتاب بھی ایک دعوت اور ضیافت ہے۔ جس کے لئے کل دنیا کو بلایا گیا ہے۔ اس دعوت کے لئے خداتعالیٰ نے جو مکان تیار کیا ہے وُہ انسانی قویٰ ہیں۔ جواُن لوگوں کو دیئے گئے ہیں جو اس امت میں ہیں۔ قویٰ کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔ اب اگر بیل، کتے یا کسی اور جانور کے سامنے قرآن کی تعلیمات کو پیش کریں تو وُہ نہیں سمجھ سکتے۔ اس لیے کہ اُن میں وہ قویٰ نہیں ہیں جو قرآن کریم کی تعلیمات کو برداشت کرسکیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم کو وہ قویٰ دیئے ہیں کہ ہم اُن سے فائدہ اُٹھاسکتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقامِ خاتم النبیین ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا، جو خاتم المومنینؐ، خاتم العارفین ؐ اور خاتم النبیین ؐ ہے اور اسی طرح پروہ کتاب اس پر نازل کی جع جامع الکُتب اور خاتم الکُتب ہے۔ رُسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم النبیین ہیں اور آپؐ پر نبوت ختم ہوگئی۔ تو یہ نبوت اس طرح پر ختم نہیں ہوئی جیسے کوئی گلاگھونٹ کر ختم کردے۔ ایساختم قابلِ فخر نہیں ہوتا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے سے یہ مُراد ہے کہ طبعی طور پر آپ ؐ پر کمالاتِ نبوت ختم ہوگئے۔ یعنی وہ تمام کمالاتِ متفرقہ جو آدم ؑ سے لے مسیح ؑابن مریم ؑ تک نبیوں کو دیئے گئے تھے۔ کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی۔ وہ سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع کردیئے گئے اور اس طرح پر طبعاً آپ خاتم النبیین ٹھہرے اور ایسا ہی وہ جمیع تعلیمات ، وصایا اور معارف جو مختلف کتابوں میں چلے آتے ہیں، وہ قرآن شریف پر آکرختم ہوگئے اورقرآن شریف خاتم الکُتب ٹھہرا۔ ہم بصیرت تام سے رسول اللہ کو خاتم النبیین مانتے ہیں اس جگہ یہ بھی یادرکھناچاہئے کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔ یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ ہم جس قوتِ یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں، اس کا لاکھوں حصہ بھی دُوسرے لوگ نہیں مانتے۔ اور ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔ وُہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے، سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سُنا ہوا ہے، مگر اُس کی حقیقت سے بے خبر