ہیں، لیکن جو کچھ آسمان پرلکھاجاتاہے وہ کبھی محو نہیںہوسکتا۔ اس کااثر ابدالآباد کے لئے ہوتا ہے، میرے بہت سے مخلص احباب ایسے ہیں جن کو تم میں سے شاید بہت ہی کم جانتے ہوں ، لیکن انہوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے ۔ مثلاً مَیں نظیرکے طور پر کہتا ہوں کہ مرزا یوسف بیگ صاحب میرے بہت ہی مخص اور صادق دوست ہیں۔ مَیں نے اُن کا ذکر اس واسطے کیا ہے کہ اس طرح پر بھائیوں میں باہم تعارف بڑھتا ہے اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ مرزا صاحب اس وقت سے میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جبکہ میں گوشہ نشینی کی زندگی بسرکررہا تھا۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ اُن کا دل محبت اوراخلاص سے بھرا ہوا ہے اور وہ ہروقت سلسلہ کی خدمت کے لئے اپنے اندر ایک جوش رکھتے ہیں۔ ایسا ہی اوربہت سے عزیزدوست ہیں اور سب اپنے اپنے ایمان اور معرفت کے موافق اخلاص اور جوشِ محبت سے لبریز ہیں۔
جبتک ایمان قوی نہ ہو کچھ نہیںہوتا اگرچہ مَیں جانتا ہوں کہ اعمال کی توفیق رفتہ رفتہ ملتی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیںکہ جب
تک ایمان قویٰ نہ ہو کچھ نہیں ہوتا۔ جس قدر ایمان قوی ہوتا ہے، اسی قدر اعمال میں بھی قوت آتی ہے۔ یہانتک کہ اگر یہ قوتِ ایمانی پورے طور پر نشوونما پاجاوے تو پھر ایسا مومن شہید کے مقام پر ہوتا ہے، کیونکہ کوئی امر اس کے سدِ راہ نہیں ہوسکتا۔ وُہ اپنی عزیز جان تک دینے میں بھی تامّل اوردریغ نہ کرے گا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اورقرآن کریم کے نزول کی غرض مَیں نے کئی دفعہ
اس سے پہلے بھی بیان کیا ہے اور اب بھی اس کا بیان کرنا فائدہ سے خالی نہیں ہے، اس لیے مَیں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جو انبیاء ؑ کو بھیجتا ہے اورآخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے دُنیا کی ہدایت کے واسطے بھیجا اور قرآن مجید کونازل فرمایا تو اس کی غرض کیا تھی؟ ہر شخص جو کام کرتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے۔ ایسا خیال کرنا کہ قرآن شریف نازل کرنے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجنے سے اللہ تعالیٰ کی کوئی غرض اور مقصد نہیں ہے، کمال درجہ کی گستاخی اور بے ادبی ہے۔ کیونکہ اس میں (معاذاللہ) اللہ تعالیٰ کی طرف ایک فعلِ عبث کو منسوب کیا جائے گا؛ حالانکہ اس کی ذات پاک ہے(سبحانہُ وتعالیٰ شانہ)
پس یادرکھو کہ کتابِ مجید کے بھیجنے اورآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ تادُنیا پر عظیم الشان رحمت کا نمونہ دکھاوے۔ جیسے فرمایا: وماارسلنک الا رحمۃ للعالمین (الانبیاء:۱۰۸) اور ایس اہی قرآن مجید کے بھیجنے کی غرض بتائی کہ ھدی للمتقین(البقرہ:۳) یہ ایسی عظیم الشان اغراض ہیں کہ اُن کی نظیر نہیں پائی جاسکتی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ ف ہینے چاہا ہے کہ جیسے تمام کمالاتِ متفرقہ جو انبیاء ؑ میں تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں جمع کردیئے۔ اسی طرح تمام خوبیاں اور کمالات جو متفرق کتابوں میں تھے، وہ قرآن شریف میں جمع کردیئے۔ اور ایسا ہی جس قدر کمالات تمام اُمتوں میں تھے وُہ اس اُمت میں جمع کردیئے۔ پس خداتعالیٰ چاہتا ہے