دوسرے اس سفر میںجو جو مشقتیں اور تکلیف ان لوگوں کو اٹھانی پڑیں گی،ان کا بھی چواب ہے۔اللہ تعالیٰ کسی کی نیکی ضائع نہیں کرتا ،جبکہ من یعمل مثقال ذراۃ خیراً یرہ(الزلزال:۸)کے موافق وہ کسی کی ذرہ بھر نیکی کے اجر کو ضائع نہیں کرتا،تو اتنا بڑا سفر جو اپنے اندر ہجرت کا نمونہ رکھتا ہے۔اس کا اجر کبھی ضائع ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ہاں یہ ضروری ہے کہ صدق اور اخلاص ہو۔ ریا اور دوسرے اغراض شہرت و نمودکے نہ ہوں اور میں جانتا ہوں کہ برو بحر کے شدائد ومصائب کو برداشت کرنا اور ایک موت کو قبول کر لینا بجز صدق کے نہیں ہو سکتا۔بہت سے بھائی ان کے لئے دعائیں کرتے رہیں گے اور میں بھی ان کے واسطے دعاوں میںمصروف رہوں گا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس مقصد میں کامیاب کرے اور خیرو عافیت سے واپس لاوے اور سچ تو یہ ہے کہ ملائکہ بھی ان کے واسطے دعائیں کریں گے اور وہ ان کے ساتھ ہوں گے۔
جماعت کی مروت اور ہمت اب میںیہ بھی ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ اس موقع پر ہماری جماعت نے دو قسم کی مروت اور ہمت
دکھائی ہے۔ایک تو یہ گروہ ہے جنہوں نے سفر اختیار کیا اور اپنے آپ کو سفر کے خطرات میں ڈالا ہے اور ان مسائب اور شدائد کے برداشت کرنے کو تیار ہو گئے ہیں جو اس راہ میں انہیں پیش آئیں گی۔دوسرا وہ گروہ ہے جنہوں نے میری دینی اغرا ض و مقاصدمیںہمیشہ دل کھول کر چندے دئے ہیں۔ مَیں کچھ ضرورت نہیں سمجھتا کہ تفصیل کروں، کیونکہ ہرشخص کم وبیش اپنی استطاعت اور مقدرت کے موافق حصہ لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ وہ کس اخلاص اوروفاداری سے ان چندوں میں شریک ہوتے ہیں۔ مَیں یہ خوب جانتا ہوں کہ ہماری جماعت نے وُہ صدق اور وفا دکھایا ہے جو صحابہ ؓ ساعت العُسر میں دکھاتے تھے؛ اگرچہ اشتہار میں مَیں نے چند دوستوں کے نام لکھے ہیں ،جنھوں نے اپنے صدق و ہمت کا نمونہ دکھایا ہے ، لیکن اس سے یہ نہیں ظاہر ہوتا کہ میں دوسروں سے بے خبر ہوں یااُن کی خدمات کو قابلِ قدر نہیں سمجھتا۔ مَیں خوب جانتا ہوں کہ کون سرگری اور اخلاص کے ساتھ میری راہ میں دوڑتا ہے۔ میں چونکہ بیمارتھا اور ابھی تک طبیعت ناساز ہے، اس لئے میں پوری تفصیل نہ دے سکا اور نہ مختصر سے اشتہار میں اتنی تفصیل ہوسکتی تھی۔ پس جن لوگوں کے نام درج نہیں ہوتے۔ اُن کو افسوس نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اُن کے صدق اور اخلاص کو خُوب جانتا ہے۔
مالی قربانی محض للہ ہو اگر کوئی شخص اس غرض کے لئے چندہ دیتا ہے یا ہماری دینی ضروریات میں شریک ہوتا ہے کہ اُس کا نام شائع کیا جائے ،
تویقینا سمجھو کہ وُہ دُنیا کی شہرت اور نام ونمود کا خواہشمند ہے، لیکن جو شخص محض اللہ تعالیٰ کے لئے اس راہ میں قدم رکھتا ہے اور خدمتِ دین کے لئے کمربستہ ہوتا ہے، اُس کو اس بات کی کچھ بھی پرواہیں ہوتی۔ دُنیا کے نام کچھ حقیقت اور اثر اپنے اندر نہیں رکھتے ہیں۔ نام وہی بہتر ہوتے ہیں ، جو آسمان پر رکھے جائیں۔ کاغذات کا کیا اثر ہے۔ ایک دن ہوتے ہیں اور دُوسرے دن ضائع ہوجاتے