اور مقصد کے لئے میں ان کو بلاتا ہوں ۔نہایت تیزی اور جوش کے ساتھ ایک دوسرے سے پہلے اپنی ہمت اور توفیق کے موافق آگے بڑھتے ہیں اور میںدیکھتا ہوں کہ ان میں ایک صدق اور اخلاص پایا جاتا ہے میری طرف سے کسی امر کا ارشاد ہوتا ہے اور وہ تعمیل کے لئے تیار۔
حقیقت میں کوئی قوم اور جماعت تیار نہیں ہو سکتی۔جب تک کہ اس میں اپنے امام کی اطاعت اور اتباع کے لئے اس قسم کا جوش اور اخلاص اور وفا کا مادہ نہ ہو۔حضرت مسیح علیہ السلام کو جو مشکلات اور مصائب اٹھانے پڑے ۔اور ان کے عوارض اور اسباب میں سے جماعت کی کمزوری اور بیدلی بھی شامل تھی؛چنانچہ جب ان کو گرفتار کیا گیا ،تو پطرس جیسے اعظم الحوارتین نے اپنے آقا اور مرشد کے سامنے انکا ر کر دیا اور نیہ صرف انکار کیا،بلکہ تین مرتبہ *** بھی بھیج دی۔اور اکثر حواری ان کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔اس کے برخلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ ؓ نے وہ صدق و وفا کا نمونہ دکھایا،جس کی نطیر دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی،انہوں نے آپ کی خطر ہر قسم کا دکھ اٹھانا سہل سمجھا۔یہاں تک کہ عزیز وطن چھوڑ دیا اپنے املاک و اسباب اور احباب سے الگ ہو گئے اور بالآخر آپ کی خاطر جان تک دینے سے تامل اور افسوس نہیں کیا۔یہی صدق اور وفا تھی جس نے آخر کا ر ان کو بامرا د کیا۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری جماعت کو بھی اس قدر اور قدر کے موافق ایک جوش بخشا ہے اور وہ وفا دوری اورصدق کا نمونہ دکھاتے ہیں۔جس دن سے میں نے نصیبین کی طرف ایک جماعت کے بھیجنے کا ارادہ کیا ہے۔ہر ایک شخص چاہتا ہے کہ اس خدمت پر مامور کیا جائے اور دوسرے کو رشک کی نگا ہ سے دیکھتا ہے اور آرزو کرتا ہے کہ اس کی جگہ اگر اس کو بھیجا جائے۔تو اس کی بڑی ہی خوش قسمتی ہے۔بہت سے احباب نے اس سفر پر جانے کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ،لیکن میں ان درخواستوں سے پہلے مرزا خدا بخش صاحب کو اس سفر کے واسطے منتخب کر چکا تھا اور مولوی قطب الدین اور میاں جمال دین کو ان کے ساتھ جانے کے واسطے تجویز کر لیا تھا۔اس واسطے مجھے ان احباب کی درخواستوں کو رد کرنا پڑا۔تاہم میں جانتا ہوںکہ وہ لوگ جنھوں نے بصد مشکل اور سچے اخلاص کے ساتھ اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی پاک نیتوں کے ثواب کو ضائع نہیں کرے گا اور وہ اپنے اخلاص کے موافق اجر پائیں گے۔
خدا تعالیٰ کی خاطر کی عظمت دور دراز بلا د اورممالک غیر کا سفر آسان امر نہیں ہے؛اگرچہ یہ سچ ہے کہ اس وقت سفر آسان ہو گئے
ہیں۔لیکن پھر بھی یہ کس کو علم ہو سکتا ہے،کہ اس سفر سے کون زندہ آئے گا۔چھوٹے چھوٹے بچے اور بیویوں اور دوسرے عزیزوں اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر جانا کوئی سہل بات نہیںہے ۔اپنے کاروبار اور اپنے معاملات کو ابتری اور پریشانی کی حالت میں چھوڑ کر ان لوگوں نے اس سفر کو اختیار کیا ہے اور انشراح صدر سے اختیار کیا ہے۔جس کے لئے میں یقین رکھتا ہوں کہ بڑا ثواب ہے۔ایک تو سفر کا ثوا ب ہے،کیونکہ یہ سفر خدا تعالیٰ کی عظمت اور توحید کے اظہار کے واسطے ہے