موت ہے اور اسی غرض سے میں نے کتاب مسیح ہندوستان میں لکھنی شروع کی ہے اور اس کتاب کے بعض مطالب کی تکمیل کے لیے میں نے مناسب سمجھا ہے کہ اپنی جماعت میں سے چند آدمیوں کو بھیجوں۔ جو اُن علاقہ جات میں جا کر ان آثار کا پتہ لگائیں، جن کا وہاں موجود ہونا بتایا جاتا ہے؛چنانچہ اس غرض کو مدنظررکھ کر ہم نے یہ جلسہ کیا ہے،تاکہ ان دوستوں کو رخصت کرنے کے لیے پہلے ہم سب مل کر اُن کے لیے دعائیں کریں کہ وہ خیروعافیت کے ساتھ اس مبارک سفر کے لیے رخصت ہوں اور کامیاب ہو کر واپس آئیں۔
حضرت مسیح کا واقعہ صلیب کے بعد نصیبین جانا اگرچہ میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ سفر جو تجویز کیا گیا ہے۔ اگر نہ
بھی کیا جاتا، تو بھی خداتعالیٰ نے محض اپنے فضل وکرم سے اس قدر شواہد اور دلائل ہم کو اس امر کے لیے دیدیئے ہیں،جن کو مخالف کا قلم اور زبان توڑ نہیںسکتی، لیکن مومن ہمیشہ ترقیات کی خواہش کرتا ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ حقائق اور معارف کا بھوکا پیاسا ہوتا ہے۔ کبھی ان سے سیر نہیںہوتا۔ اس لیے ہماری بھی یہی خواہش ہے کہ جس قدر ثبوت اور دلائل اور مل سکیں۔وہ اچھا ہے۔اسی مقصد کے لیے یہ تقریب پیش آئی ہے کہ ہم اپنے دوستوں کو نصیبین کی طرف بھیجتے ہیں۔جس کے متعلق ہمیں پتہ ملا ہے کہ وہاں کے حاکم نے حضرت مسیحؑ کو(جبکہ وہ اپنی نا شکر گزار قوم کے ہاتھ سے تکلیفیں اٹھا رہے تھے۔لکھا تھا کہ آپ میرے پاس چلے آئیے اور واقعہ صلیب سے بچ جانے کے بعد اس مقام پر پہنچ کر انہوں نے بدقسمت قوم کے ہاتھ سے نجات پائی۔وہاں کے حاکم نے یہ بھی لکھا تھا کہ آپ میرے پاس آجائیں گے تو آپ کی خدمت کی سعادت حاصل کروں گااور میں بیمارہوں میرے لیے دُعا بھی کریں) اگرچہ یہ امر ہمیں ایک انگریزی کتاب سے معلوم ہوا ہے،لیکن میںدیکھتا ہوں کہ روضتہؔ الصفا جو ایک اسلامی تاریخ ہے۔اس قسم کا مفہوم اس سے بھی پایا جاتا ہے۔ اس لیے یہ یقین ہوتا ہے کہ حضرت مسیح نصیبین میں ضرور آئے اور اسی راستے سے وہ ہندو ستان کو چلے آئے۔سارا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے،لیکن ہمارا دل تو گواہی دیتا ہے کہ اس سفر سے انشا ء اللہ حقیقت کھلا جائے گی اور اصل معاملہ صاف ہو جائے گا۔ممکن ہو کہ اس سفر میں ایسی تحریریں پیش ہو جاویں یا ایسے کتبے نکل آویں،جو حضرت مسیح علیہ السلام کے اس سفر کے متعلق بعض امور پر روشنی ڈالنے والے ہوں یا حوریوں میں سے کسی کی قبر کا کوئی پتہ چل جائے یا اور اس قسم کے امور نکل آویں،جو ہمارے مقصد میں موید ثابت ہو سکیں،اس لئے میںنے اپنی جماعت میں سے تین آدمیوں کو اس سفر کے لئے تیار کیا ہے۔ان کے لئے ایک عربی تصنیف بھی کرنا چاہتا ہوں،جو بطور تبلیغ کے ہو اور جہاں جہاں وہ جاویں۔اس کو تقسیم کرتے رہیں اس طرح اس سفر سے یہ بھی فائدہ ہو گا کہ ہمارے سلسلے کی اشاعت بھی ہوتی جائے گی۔
ایک مخلص اور وفا دار جماعت اور میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک مخلص اور وفادار جماعت عطا کی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ جس کام