چلا گیا،جو گویا اس کی خدائی کی دلیل ہے۔ جن لوگوں نے اپنی غلطی سے ا ن لوگوں کا ساتھ دیا ہے۔وہ یہ تو نہیں مانتے کہ مسیح صلیب پر مر گیا، مگر وہ اتنا ضرورمانتے ہیں کہ وہ زندہ(بجسد عنصری) آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ لیکن جو حقیقت اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھولی ہے وہ یہ ہے کہ مسیحؑ ابن مریم اپنے ہمعصر یہودیوںکے ہاتھوں سخت ستایا گیا۔ جس طرح پر راستباز لوگ اپنے زمانہ میں نادان مخالفوںکے ہاتھوں ستائے جاتے ہیں اور آخران یہودیوں نے اپنی منصوبہ بازی اور شرارتوںسے یہ کوشش کی کہ کسی طرح پر آپ کا خاتمہ کر دیں اور آپ کو مصلوب کر ادیں۔بظاہر وہ اپنی ان تجاویز میںکامیاب ہو گئے،کیونکہ حضرت مسیحؑ ابن مریم کو صلیب پر چڑھائے جانے کا حکم دیدیاگیا،لیکن اللہ تعالیٰ نے جو اپنے راستبازوںاور ماموروںکو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ان کو اس *** سے جو صلیب کی موت کے ساتھ وابستہ تھی بچالیااور ایسے اسباب پیدا کر دئیے کہ وہ اس صلیب پر سے زندہ اُتر آئے۔ اس امر کے ثبوت کے لیے بہت سے دلائل ہیںجو خاص انجیل سے ہی مل سکتے ہیں،لیکن اس وقت ان کا بیان کرنا میری غرض نہیںہے، جو شخص ان واقعات پر جو صلیب کے متعلق انجیل میں درج ہیں،غور کرے گا۔ تو ان کے پڑھنے سے اُسے صاف معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیحؑ ابن مریم صلیب پر سے زندہ اُتر آئے تھے اور پھر یہ خیال کر کے کہ اس ملک میںاُن کے بہت سے دشمن تھے اور دشمن بھی وہ جو اُن کے جانی دشمن تھے اور جیسا کہ وہ پہلے کہہ چکے تھے کہ نبی بے عزت نہیں ہوتا، مگر اپنے وطن میںجس سے ان کی ہجرت کا پتہ چلتا ہے کہ اُنھوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اس ملک کو چھوڑدیں اور اپنے فرض رسالت کو پورا کرنے کے لیے وہ بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی تلاش میں نکلے اور نصیبین کی طرف سے ہوتے ہوئے افغانستان کے راستہ کشمیر میں آکربنی اسرائیل کو جو کشمیر میں موجود تھے،تبلیغ کرتے رہے اور اُن کی اصلاح کی اور آخرکاراُن میںہی وفات پائی۔یہ امر ہے جو مجھ پر کھولا گیا ہے۔ اس مسئلہ کی اہمیت اس ایک مسئلہ سے ہی عیسائیت کا ستون ٹوٹ جاتا ہے،کیونکہ جب صلیب پر مسیحؑ کی موت ہی نہیںہوئی اور وہ تین دن کے بعد  زندہ ہو کر آسمان پر گئے ہی نہیں،تو الوہیت اور کفارہ کی عمارت توبیخ و بنیاد سے گر پڑی اور مسلمانوں کا غلط خیال(جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم )کی سخت توہین ہوتی تھی کہ حضرت مسیحؑ زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں اور پھر دوبارہ نازل ہوں گے ؛حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا یا پرانا نبی نہیں آسکتاجس کی نبوت پرآپ ؑ کی مُہر نہ ہو بھی دور ہو گیا۔اور قرآن شریف کی اصل اور پاک تعلیم سچی ثابت ہو گئی۔ کیونکہ قرآن شریف میں تو مسیحؑ کا صاف اقرارفلما توفیتنی کا موجود ہے،جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ وفات مسیح کے مسئلہ پر زور دینے کی وجہ یہی وجہ ہے کہ ہم وفات مسیح کے مسئلہ پر زیادہ زور دیتے ہیں، کیونکہ اسی موت کے  ساتھ عیسائی مذہب کی بھی