جلسہ الوداع کی تقریب پر حضرت اقدسؑ کی تقریر
بعثت کی غرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ صلیب سے اتر آنے اورا س حادثہ سے بچ جانے کا قرآن شریف میں صحیح اور یقینی علم دیا گیا ہے،مگر افسوس ہے
کہ پچھلے ہزار برس میں جہاں اسلام پر اور بہت سی آگتیں آئیں۔وہاں یہ مسلہ بھی تاریکی میں پڑ گیا اور مسلمانوں میں بد قسمتی سے یہ کیال راسخ ہو گیا کہ حضرت مسیحؑ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور وہ قیامت کے نزدیک آسمان سے اتریں گے،مگر اس چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا تا کہ میں اندرونی طور پر جو غلطیاں مسلمانوں میں پیدا ہو گئیں ہیں،ان کو دور کروں اور اسلام کی حقیقت دنیا پر واضح کروں ور بیرونی طور پر جو اعتراضات اسلام پر کئے جاتے ہیں۔ان کا جواب دوں اور دوسرے مذاہب،اس کے غلط اعتقادات کا استیصال کروں جو انسان کے لئے خطر ناک طورپر مضر ہیں اور انسان کی روحانی قوتوں کی نشوونما اور ترقیات کے لئے ایک روک ہیں۔
عیسیٰ ابن مریم کے متعلق اصل حقائق منجملہ ان کے یہی ایک مسلہ ہے جو مسیح کے آسمان پر جانے کے متعلق ہے اور
جس میں بد قسمتی سے بعض مسلمان بھی ان کے شریک ہو گئے ہیں۔اسی ایک مسئلے پر عیسائیت کا دارومدار ہے کیونکہ عیسائیت کی نجات کا مدار اسی صلیب پر ہے اور ان کا عقیدہ ہے کہ مسیح ہمارے لئے مصلوب ہوا اور پھر وہ زندہ ہو کر آسمان پر