کے کام الگ الگ ہیں۔ گویا ہر ایک بجائے خود ناقص اور نا تمام ہے اور ایک دوسرے کا متمم ہے۔
مسیح کی الُوہیّت اور مسیح جس کو خدا بنایا جاتا ہے۔اس کی تو کچھ پُوچھو ہی نہیں۔ساری عمر پکڑدھکڑ میں گزری اور ابن آدم کو سر دھر نے
کو جگہ ہی نہ ملی۔ اخلاق کا کوئی کامل نمونہ ہی موجود نہیں۔تعلیم ایسی ادھوری اور غیر مکتفی کہ اس پر عمل کر کے انسان بہت نیچے جا گرتا ہے۔
وہ کسی دوسرے کو اقتدار اور عزت کیا دے سکتا ہے۔جو اپنی بے بسی کا خود شاکی ہے،اوروں کی کیا سن سکتا ہے۔جس کی اپنی ساری رات کی گریہ وزاری اکارت رہ گئی اور چلا چلا کر ایلی ایلی لما سبقتانی بھی کہا مگر شنوائی ہی نہ ہوئی اور پھر اس پر طرہ یہ کہ آخر یہودیوں نے پکڑ کر صلیب پر لٹکا دیا اوراپنے عتقاد کے مواقق ملعون قرار دیا۔خود عیسائیوں نے *** مانا ۔مگر یہ کہہ دیا کہ ہمارے لئے *** ہوا ؛حالانکہ *** ایسی چیز ہے کہ انسان اس سے سیاہ باطن ہو جاتا ہے اور وہ کدا سے دور اور خدا اس سے دور ہو جاتا ہے۔گویا خدا سے اس کا کچھ تعلق نہیں رہتا۔اس لئے ملعون شیطان کا نام بھی ہے۔اب اس *** کو مان کر اور مسیح کو ملعون قرار دے کر عیسائیوں کے پاس کیا رہ جاتا ہے،سچ تو یہ ہے:’’*** نال ککھ نئیں رہندا۔‘‘گلے پڑا ڈھول ہے جو یہ لوگ بجا رہے ہیں۔غرض ان لوگوں کے عقائد کا کہانتک ذکر کیا جاوے۔حقیقت وہی ہے جو اسلام لے کر آیا اور خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کیا کہ میں اس نور کو جو اسلام میں ملتا ہے۔ان کو جو حقیقت کے جو یاں ہیں دکھاوں۔سچ یہی ہے کہ خدا ہے اور ایک ہے اور میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر انجیل اور قرآن کریم اور تمام صحف انبیاء بھی دنیا میں نہ ہوتے تو بھی خدا تعالیٰ کی توحید ثابت تھی،کیونکہ اس کے نقوش فطرت انسانی میں موجود ہیں۔
مسیح کی انبیت خدا کے لئے بیٹا تجویز کرنا گویا اللہ تعالیٰ کی موت کا یقین کرنا ہے۔کیونکہ بیٹا تو اس لئے ہوتا ہے کہ وہ یاد گار ہو۔اب اگر مسیح خدا کا بیٹا
ہے تو پھرسوال ہو گا کہ کیا خدا کو مرنا ہے؟مختصر یہ ہے کہ عیسائیوں نے اپنے عقائد میں نہ خدا کی عظمت کا لحاظ رکھا اورنہ قوائے انسان کی قدر کی ہے اور ایسی باتوں کو مان رکھا ہے کہ جن کے ساتھ آسمانی روشنی کی تائید نہیں ہے۔ایک بھی عیسائی ایسا نظر نہ آیا جو خوارق دکھا سکے اور اپنے ایمان کو ان نشانات سے ثابت کر سکے جو مومنوں کے ہوتے ہیں۔یہ فضیلت اور فخر اسلام ہی کو ہے کہ ہر زمانہ مین تائیدی نشان اس کے ساتھ ہوتے ہیں اور اس زمانہ کو بھی خدا نے محروم نہیں رکھا۔مجھے اسی غرض کے لئے بھیجا گیا ہے کہ ان تائیدی نشانوں سے جو اسلام کا خاصہ ہے۔اس زمانہ مین اسلام کی صداقت دنیا پرظاہر کروں۔مبارک وہ جو ایک سلیم دل لے کر میرے پاس حق لینے کے لئے آتا ہے اور پھر مبارک وہ جو حق دیکھے تو اس کو قبول کرتا ہے۔‘‘ ؎۱