کا عام قانون ہے۔بہت لوگوں نے جو سعادت اور رشد سے حصہ نہ رکھتے تھے۔خدا ترسی اور انصاف سے بے بہرہ تھے۔مجھے جھوٹا اور مفتری کہا اور ہر پہلو سے مجھے دکھ دینے اورتکلیف پہنچانے کی کوشش کی ۔کفر کے فتوے دے کر مُسلمانوںکو بدظن کرنا چاہا اور خلاف واقعہ امور کو گورنمنٹ کے سامنے پیش کر کے اس کو بھڑکانے کی کوشش کی ۔جھوٹے مقدمات بنائے۔گالیاںدیں۔قتل کرنے کے منصوبے کیے۔غرض کونساامرتھاجو اُنھوںنے نہیں کیا، مگر میرا خدا ہر وقت میرے ساتھ ہے ۔اُس نے مجھے اُن کی ہر شرارت سے پہلے اُن کے فتنہ اور اس کے انجام کی خبر دی اور آخر وہی ہوا جو اُس نے ایک عرصہ پہلے مجھے بتلایا تھا اور کچھ وہ لوگ بھی ہیںجن کو اللہ تعالیٰ نے سعادت،خداترسی اور نورایمان سے حصہّ دیا ہے۔جنھوں نے مجھے پہچانا اور اُس نُورکے لینے کے واسطے میرے گرد جمع ہوگئے جو مجھے خداتعالیٰ نے اپنی بصیرت اور معرفت بخشی ہے۔ان لوگوںمیںبڑے بڑے عالم ہیں۔گریجویٹ ہیں،وکیل اور ڈاکٹرہیں،معززعہدہ داران گورنمنٹ ہے۔تاجر اور زمیندارہیںاور عام لوگ بھی ہیں۔  افسوس تو یہ ہے کہ ناہل مخالف اتنا بھی تو نہیں کرتے کہ ایک حق بات جو ہم پیش کرتے ہیں۔ اس کو آرام سے سن ہی لیں۔اُن میںایسے اخلاق فاضلہ کہاں؟ورنہ حق پرستی کا تقاضا تو یہ ہے ؎ مرد باید کہ گیر داندر گوش گر نو شت است پند بر دیوار مذہب حق اور توحید اس زمانہ میںمذہب کے نام سے بڑی نفرت ظاہر کی جاتی ہے اور مذہب حقہ کی طرف آنا، تو گویاموت کے منہ میںجانا ہے۔  مذہب حق وہ ہے جس پر باطنی شریعت بھی شہادت دے اُٹھے۔مثلاً ہم اسلام کے اصول توحید کو پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہی حقانی تعلیم ہے کیونکہ انسان کی فطرت میںتوحیدکی تعلیم ہے اور نظارہ قدرت بھی اس پر شہادت دیتا ہے۔خداتعالیٰ نے مخلوق کو متفرق پیداکر کے وحدت ہی کی طرف کھینچا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وحدت ہی منظور تھی۔پانی کا ایک قطرہ اگر چھوڑیں۔تو وہ گول ہو گا۔چاند،سُورج سب اجرام فلکی گول ہیں اورکرو یّت وحدت کو چاہتی ہے۔  تثلیث ہم اس وقت بے انتہا خداوں کا ذکر چھوڑ دیتے ہیں، کیونکہ یہ تو ہے بھی ایک بیہودہ اور بے معنی اعتقاد اور بے شمار خدا ماننے سے امان اُٹھ جاتا ہے، مگر تثلیث کا ذکر کرتے ہیں۔ ہم نے جیسا کہ قدرت کے نظائر سے ثابت کیا ہے کہ خدا ایک ہی ہے۔اس طرح پر اگر خدا معاذ اللہ تین ہوتے جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں توچاہیے تھا کہ پانی،آگ کے شعلے اور زمین آسمان کے اجرام سب کے سب سہ گوشہ ہوتے تاکہ تثلیت پر گواہی ہوتی۔ اور نہ انسانی نُور قلب کبھی تثلیث پر گواہی دیتا ہے۔پادریوں سے پُوچھا ہے کہ جہاں انجیل نہیں گئی،وہاں تثلیث کا سوال ہو گا یا توحید،کا تو انھوں نے صاف اقرار کیا ہے کہ توحید کا، بلکہ ڈاکٹر فنڈر نے اپنی تصنیف میں یہ اقرار درج کر دیا ہے۔ اب ایسی کھلی شہادت کے ہوتے پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ تثلیث کا عقیدہ کیوں پیش کر دیا جاتا ہے۔ پھر یہ سہ گوشہ خدا بھی عجیب ہیں۔ ہر ایک