پر یقین رکھتے ہیں ۔یہ امر بھی تکلف سے خالی نہیں۔ ابھی تک ایمان ایک محویت کے رنگ میں ہے ۔متقی کی آنکھیں معرفت اور بصیرت کی نہیں۔ اس نے تقوی سے شیطان کا مقابلہ کر کے ابھی تک ایک بات کو مان لیا ہے ۔یہی حال اس وقت ہماری جماعت کا ہے۔ انھوںنے بھی تقویٰ سے مانا تو ہے۔ پر ابھی تک وہ نہیں جانتے کہ یہ جماعت کہاں تک نشوونما الہیٰ ہاتھوں سے پانے والی ہے ۔سو یہ ایک ایمان ہے جو بالآخر فائدہ رساں ہو گا۔ یقین کا لفط جب عام طور پر استعمال ہو،تو اس سے مراد اس کا ادنیٰ درجہ ہوتا ہے یعنی علم کے تین مدارج میں سے ادنی درجہ کا علم ،یعنی علم الیقین۔ اس درجہ پہ اتقا والا ہوتا ہے مگر بعد اس کے عین الیقین اور حق الیقین کا مرتبہ بھی تقویٰ کے مراحل طے کرنے کے بعد حاصل کر لیتا ہے۔ تقویٰ کوئی چھوٹی چیز نہیں ۔اس کے زریعے سے ان تمام شیطانوں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ جو انسان کی ہر ایک اندرونی طاقت وقوت پر غلبہ پائے ہوئے ہیں ۔یہ تمام قوتیں نفس مارہ کی حالت میں انسان کے اندر شیطان ہیں۔اگر اصلاح نہ پائیں گی تو انسان کو غلام کر لیں گی۔ علم و عقل ہی برے طور پر استعمال ہو کر شیطان ہو جاتے ہیں ۔متقی کا کام ان کی اور ایسا ہی اور دیگر قویٰ کی تعدیل کرنا ہے۔ سچا مذہب قویٰ کا مربی ہوتا ہے ایسا ہی جو لوگ انتقام ،غضب یا نکاح کو ہر حال میں برا مانتے ہیں ،وہ بھی صحیفہ قدرت کے مخالف ہیں اور قوی انسان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ سچا مذہب وہی ہے جو انسان قوی کا مربی ہو، نہ کہ ان کا استیصال کرے۔ رجولیت یا غضب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے فطرت انسان میں رکھے گئے ہیں۔ ان کو چھوڑنا خدا کا مقابلہ کرنا ہے۔ جیسے تارک الدنیا ہونا یا راہب بن جانا۔ یہ تمام امور حق العباد کو تلف کرنے والے ہیں۔ اگر یہ امر ایسا ہوتا، ہی ہے تو گویا اس خدا پہ اعتراض ہے جس نے یہ قوی ہم میں پیدا کیے … پس ایسی تعلیمات جوانجیل میں ہیں اور جن سے قوی کا استیصال لازم آتا ہے، ضلالت تک پہنچاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو اس کو تعدیل کا حکم دیتا ہے۔ ضائع کرنا پسند نہیں کرتا۔ جیسے فرمایا اِنَ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ (النحل:۹۱)عدل ایک ایسی چیز ہے، جس سے سب کو فائدہ اٹھاناچاہیے۔ حضرت مسیح موعود کا یہ تعلیم دینا کہ اگر تو بری آنکھ سے دیکھے ،تو آنکھ نکال ڈال اس میںبھی قویٰ کا استیصال ہے، کیونکہ ایسی تعلیم نہ دی کہ تو غیر محرم عورت کو ہر گز نہ دیکھ، مگر بر خلاف اس کی اجازت دی کہ دیکھ تو ضرور، لیکن زنا کی آنکھ سے نہ دیکھ۔ دیکھنے سے تو مانعت ہے ہی نہیں ۔دیکھے گا تو ضرور، بعد دیکھنے کے دیکھنا چاہیے کہ اس کے قوی پر کیا اثر ہوگا۔ کیوں نہ قرآن شریف کی طرح آنکھ کو ٹھوکر والی چیز ہی کے دیکھنے سے روکا ۔اور آنکھ جیسی مفید اور قیمتی چیز کو ضائع کر دینے کا افسوس لگایا۔ اسلامی پردہ آجکل پردے پر حملے کیے جاتے ہیں۔لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اسلامی پردے سے مراد زنداں نہیں ،بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے۔ جب