’’میں نے پہلے بھی اس اقرار مفصل ذیل کو اپنی کتابوں میں قسم کے ساتھ لوگوں پر ظاہر کیا ہے اور اب بھی اس پرچہ میں اس خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر لکھتا ہوں،جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ میں وہی مسیح موعود ہوں،جس کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان احادیث صحیحہ میں دی ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور دوسری صحاح میں درج ہیں۔وکفی باللہ شھیداً۔‘‘ الرقم مرزا غلام احمد عفااللہ وایدہ ۱۷ اگست۱۸۹۹؁ء اس ذکر سے میری دو غرضیں ہیں۔ایک یہ کہ اپنی جماعت کا ایمان بڑھے اور انہیں وہی ذوق اور سرور حاصل ہو جو یہاں کے خوش قسمت حاضرین کو اس گھڑی حاصل ہوا اور انہوں نے سچے دل سے اعتراف کیا کہ ان کو نیا ایمان ملا ہے اوردوسرے یہ کہ منکرین اور بد ظن اس اعلی بصیرۃ قسم پر ٹھنڈے دل سے غور کریں اور سوچیں کہ متعمد کذاب اور مفتری مختلق کی یہ شان اور اسے یہ جرات ہو سکتی ہے کہ ذوالجلال خدا کی ایسی اور اس طرح اور ایسے مجمع میں قسم کھائے۔اللہ اکبر!اللہ اکبر!!اللہ اکبر!!!‘‘؎۱ ۲۱اکتوبر۱۸۹۹؁ء لالہ کیشوداس صاحب تحصیلدار بٹالہ اتفاق حسنہ سے قادیان میں وارد ہوئے اور حضرت اقدسؑ کی ملاقات کے لئے تشریف لائے اور عرض کیا کہ مجھے فقراء سے ملنے کا کمال شوق ہے۔ اور اسی شوق کی وجہ سے آپؑ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔حضرت اقدس نے فرمایا:  مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض۔زندہ خدا پر زندہ ایمان پیداکرنا  بے شک اگر آپ کے دل میں اہل لوگوں کے ساتھ محبت نہ ہوتی،تو آپ ہمارے پاس کیوں آتے اور ایک دنیا دار کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ ایک دنیا سے الگ گوشہ نشین کے پاس جاوے۔مناسبت ایک ضروری شے ہے اور اصل تو یہ ہے کہ جبکہ انسان ایک فنا ہونے والی ہستی ہے اور موت کا کچھ بھی پتہ نہیں کہ کب آجاوے اور عمر ایک ناپائیدار شے ہے پھر کس قدر ضروری ہے کہ اپنی اصلاح اور فلاح کی فکر میںلگ جاوے،مگر میں دیکھتا ہوں کہ دنیا اپنی دھن میں ایسی لگی ہے کہ اس کو آخرت کا کچھ فکر اور خیال ہی نہیں ہے۔۔خدا تعالیٰ سے ایسے لا پرواہ ہو رہے ہیں گویا وہ کوئی ہستی ہی نہیں ایسی حالت میں جبکہ دنیا کی ایمانی حالت اس حد تک کمزور ہو چکی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے تاکہ میں زندہ ایمان زند ہ خدا پر پیدا کرنے کی راہ بتلاوں۔جیسا کہ خد اتعالی