مبتلا رہتے تھے وہ بسا اوقات میری حالت دیکھ کر رشک کھاتے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ بڑا ہی خوش نصیب آدمی ہے۔اس کے نزدیک کوئی غم نہیں آتا۔‘‘
رسول اکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مقام
ایک دفعہ ایک دوست نے جو محبت مسیح موعود ؑ میں فنا شدہ تھے۔آپ کی خدمت میں عرض کی کہ کیوں نہ ہم آپؑ کو مدارج میں شیخین سے افضل سمجھا کریں اور رسول اکرم کے قریب قریب مانیں؟اللہ اللہ ! اس بات کو سن کرحضرت اقدس علیہ السلام کا رنگ اڑ گیا اور آپ کے سراپا پر عجیب اضطراب وبیتابی مستولی ہو گئی۔میں خدائے غیور وقدوس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس گھڑی نے میرا ایمان حضور ۱قدس کی نسبت اور بھی زیاد ہ کر دیا۔آپ نے برابر چھ گھنٹے کامل تقریر فرمائی۔بولتے وقت میں نے گھڑی دیکھ لی تھی اور جب آپ نے تقریر ختم کی۔جب بھی دیکھی۔پورے چھ ہوئے۔ایک منٹ کا فرق بھی نہ تھا۔
اتنی مدت تک ایک مضمون کو بیان کرنا اور مسلسل بیان کرنا ایک خرق عادت تھا۔اس سارے مضمون میں آپ نے رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیمات کے محامد وفضائل اور اپنی غلامی اور کفش برادری کی نسبت حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے اور جناب شیخین علیہم السلام کے فضائل بیان فرمائے اور فرمایا:
’’میرے لئے یہ کافی فخر ہے کہ میں ان لوگوں کا مداح اور خاک پا ہوں۔جو جزئی فضیلت خدا تعالیٰ نے انہیں بخشی ہے،وہ قیامت تک اور کوئی شخص نہیں پا سکتا۔کب محمد رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم دنیا میں دوبارہ پیدا ہوں اور پھر کسی کو ایسی خدمت کا موقع ملے جو جناب شیخین کو ملا۔‘‘؎۱
۱۷اگست۱۸۹۹ء
چند روز ہوئے بریلی سے ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں لکھا کہ کیا آپ وہی مسیح موعود ہیں،جس کی نسبت رسول خدا(صلی اللہ علیہ والہ وسلم )نے احادیث میں خبر دی ہے؟خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر آپ اس کا جواب لکھیں۔میں نے معمولاً رسالہ’’تریاق القلوب‘‘سے دو ایک ایسے فقرے جو اس کا کافی جواب ہو سکتے تھے لکھ دئے۔وہ شخص اس پر قانع نہ ہوا اور پھر مجھے مخاطب کر کے لکھاکہ میں چاہتا ہوں کہ مرزاصاحبؑ خود اپنے قلم سے قسمیہ لکھیں کہ آیا وہ وہی مسیح موعود ہیں جس کا ذکر احادیث اور قرآن مجید میں موجود ہے؟میں نے شام کی نماز کے بعد دوات قلم اور کاغذ حضرت کے آگے رکھ دیا اور عرض کیا کہ ایک شخص ایسا کہتا ہے۔حضرت نے فوراً کاغذ ہاتھ میں لیا اور یہ چند سطریں لکھ دیں۔