ورنہ وہ کچھ پرواہ نہیں کرتا کہ لوگ کتوں اور بھیڑوں کی موت مر جائیں۔‘‘
خدا تعالیٰ اور بندہ کا رابطہ ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا :کہ
’’دو دوستوں میں دوستی اسی صورت میں نبھ سکتی ہے
کہ کبھی وہ اس کی مان لے اور کبھی یہ اس کی۔اگر ایک شخص صدا اپنی ہی منوانے کے درپے ہو جائے،تو معاملہ بگڑ جاتا ہے۔یہی حال خدا تعالیٰ اور بندے کے رابطے کا ہونا چاہیے ۔کبھی اللہ تعالیٰ اس کی سن لے اور اس پر فضل کے دروازے کھول دے اور کبھی بندہ اس کی قضاء وقدر پر راضی ہو جائے۔حقیقت یہ ہے کہ حق خدا تعالیٰ کا ہی کا ہے کہ وہ بندوں کا امتحان لے اور یہ امتحان اس کی طرف سے انسان کے فوائد کے لئے ہوتے ہیں۔اس کا قانون قدرت ایسا ہی واقع ہوا ہے کہ امتحان کے بعد جو اچھے نکلیں انہیں اپنے فضلوں کا وارث بناتا ہے۔‘‘
دنیاوی امور میں کھویا جانا خسارت آخرت کا موجب ہوتا ہے ایک نوجوان شخص نے حضرت مسیح
موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر دنیاوی مصائب کی کہانی شروع کی اور اپنے طرح طرح کے ہم وغم بیان کئے۔حضرت مسیح موعود نے بہت سمجھایا اور فرمایا کہ:’’ہمہ تن دنیاوی امور میں کھو جانا خسارت آخرت کا موجب ہوتا ہے اور اس قدر جزع فزع مومن کو نہیں چاہیے۔‘‘مگر وہ زور زور سے رونے لگا۔جس پر آپ نے سخت ناراضگی اور نا پسند یدگی کا اظہار فرما کر کہا کہ’’بس کرو۔میں ایسے رونے کو جہنم کا موجب بناتا ہوں۔میرے نزدیک جو آنسو دنیا کے ہم وغم میں گرائے جاتے ہیں۔وہ آگ ہیں جو بہانے والے کو ہی جلا دیتے ہیں۔میرا دل سخت ہو جاتا ہے ایسے شخص کے حال کو دیکھ کر جو جیفہ دنیا کی تڑپ میں کڑھتا ہے۔‘‘
مثالی توکل کی کیفیت ایک دن مجلس مسیح موعودؑ میں توکل کی بات چل پڑی،جس پر آپ نے فرمایا:
ؔ’’میں اپنے قلب کی عجیب کیفیت پاتا ہوں۔جیسے سخت حبس ہوتا اور گرمی کمال شدت کو پہنچ جاتی ہے،تو لوگ وثوق سے امید کرتے ہیں کہ اب بارش ہو گی۔ایسا ہی جب میں اپنی صندوقچی کو خالی دیکھتا ہوں تو مجھے خدا کے فضل پر یقین واثق ہوتا ہے کہ یہ اب بھرے گی اور ایسا ہی ہوتا ہے۔‘‘اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر فرمایا کہ:
’’جب میرا کیسہ خالی ہوتا ہے توجو ذوق وسرور ا للہ تعالیٰ پر توکل کا اس وقت مجھے حاصل ہوتا ہے میں اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا اور وہ حالت بہت ہی زیادہ راحت بخش اور طمانیت انگیز ہوتی ہے بہ نسبت اس کے کہ کیسہ بھرا ہوا ہو۔‘‘اور فرمایا:
’’ان دنوںمیں جبکہ دنیوی مقدمات کی وجہ سے والد صاحب اور بھائی صاحب کے طرح طرح کے ہموم وغموم میں