’’ہم اس پر قادر ہیں کہ ایسی تقریریں کریں اور ایسی تحریریں شائع کریں کہ لوگوں کو مُصطلح صُلح کل کے ڈھانچہ میں ڈھلی ہوئی ہوں اور سب قومیں علی اختلاف المثارب خوش ہوجاویں اور حکام اور رعایا میں سے کسی کو بھی کبھی اُن پر نکتہ چینی کا موقع نہ مل سکے، مگر اس خسیس دُنیا کو خوش کرکے اپنے خدا کی دھتکارکی طاقت ہم کہاں رَکھ سکتے ہیں۔‘‘ ۱؎ ہفتہ مختتمہ۱۱اگست۱۸۹۹؁ء بعض لوگ حضرت مسیح موعود ؑ کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا کرتے تھے۔جس کے جواب میں ان کو تحریر کیا جاتا تھا ۔کہ دعا کی گئی،مگر بعد ازاں وہ دوبارہ لکھ دیا کرتے کہ’’کچھ فائدہ نہیں ہوا ۔اور یہ دو حال سے خالی نہیں۔یا تو آپ نے دعا نہیں کی یا اگر کی ہے تو توجہ سے نہیں کی۔‘‘حضرت مولوی عبدا لکریم صاحب نے ایک دن عرض کی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: دعا کی حقیقت ’’سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ دعا کے مضمون پر پھر قلم اٹھایا جائے۔کیونکہ پہلے مضامین اس بارے میں کافی ثابت نہیں ہوئے۔ دعا نہایت نازک امر ہے اور اس کے لئے شرط ہے کہ مستدعی اور داعی میں ایسا مستحکم رابطہ ہو جائے کہ ایک کا درد دوسرے کا درد ہو جائے اور ایک کی خوشی دوسرے کی خوشی ہو جائے۔جس طرح شیر خوار بچے کا رونا ماں کو بے اختیار کر دیتا ہے اور اس کی چھاتیوں میں دودھ اتار دیتا ہے،ویسے ہی مستدعی کی حالت زار اوراستغاثہ پر داعی سراسر رقت اور عقد ہمت بن جاوے۔ توجہ اور رقت بھی خدا تعالیٰ کے ہاں سے نازل ہوتی ہے فرمایا اصل بات یہ ہے کہ سب امور خدا تعالیٰ  کی موہبت ہیں۔اکتساب کو ان میں داخل نہیں۔توجہ اور رقت بھی خدا تعالیٰ کے ہاں سے نازل ہو تی ہے۔جب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ کسی کے لئے کامیابی کی راہ نکال دے،تو وہ داعی کے دل میں توجہ اور رقت ڈال دیتا ہے،مگر سلسلہ اسباب میں ضروری ہوتا ہے کہ داعی کو کوئی محرک شدید جنبش اور حرکت دینے والا ہو ۔اس کی تدبیر بجز اس کے اور کوئی نہیں کہ مستدعی اپنی حالت ایسی بنائے کہ اضطراراًداعی کو اس کی طرف توجہ ہو جائے۔‘‘ دعا اور خدمت دین فرمایا۔’’جو حالت میری توجہ کو جزب کرتی ہے اور جسے دیکھ کر میں اپنے اندر دعا کی تحریک پاتا ہوں۔وہ ایک ہی بات ہے کہ میں کسی شخص کی نسبت معلوم کر لوں کہ یہ خدمت دین کے سزاوار ہے اور اس کا وجود خدا تعالیٰ کے لئے ،خدا کے رسول کے لئے،خدا کی کتاب کے لئے اور خدا کے بندوں کے لئے نافع ہے۔ایسے شخص کو جو درودو الم پہنچے وہ درحقیقت مجھے پہنچاتا ہے۔‘‘ فرمایا۔’’ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دلوں میں خدمت دین کی نیت باندھ لیں۔جس طرز اور جس رنگ کی خدمت جس سے بن پڑے کرے۔‘‘پھر فرمایا: ’’میں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کی قدرو منزلت ہے،جو دین کا خادم اور نافع الناس ہے۔