خدا تعالیٰ اخلاص و محبت کو دیکھتا ہے خدا تعالیٰ کی نگاہ انسان مخلص کے دل کے ایک نقطہ پر ہوتی ہے جسے وہ دیکھتا ہے اور جانتا ہے کہ  اس کیخاطر وہخوش دلی سے ہر صعوبت،مکروہ کو برداشت کر لے گا۔یہ ضرور نہیں کہ کوئی بڑی بڑی مشقتیں کرے اور دائم حاضر باش رہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ خاکروب ہمارے مکان میں آکر بڑی تکلیف اٹھاتا ہے اور جو کام وہ کرتا ہے ہمارا ایک بڑا معزز اور مخلص دوست وہ کام نہیں کر سکتا،تو کیا ہم اپنے وفادار احباب کو بے قدر سمجھیں اور خاکروب کو معزز ومکرم خیال کریں۔بعض ہمارے ایسے بھی احباب ہیں جو مدتوں کے بعد تشریف لاتے ہیں اور انہیں ہر وقت ہمارے پاس بیٹھنامیسر نہیں آتا،مگر ہم خوب جانتے ہیں کہ ان کے دلوں کی بناوٹ ایسی ہے اور وہ اخلاص مودت سے ایسے خمیر کئے گئے ہیں کہ ایک وقت ہمارے بڑے بڑے کام آسکتے ہیں۔نظام قدرت میںبھی ہم ایسا ہی نظام دیکھتے ہیں کہ جتنا شرف بڑھ جاتا ہے ،محنت اور کام ہلکا ہو جاتا ہے۔ایک مذکوری کو دیکھ لو ۔انبار پروانوں کا اسے دیا جاتا ہے اور ایک ہفتہ کے اندر حکم ہے کہ تعمیل کے حاضر ہو۔برسات ہو، دھوپ ہو اجاڑہ ہو،دیہات کے راستے خراب ہوں۔کوئی عذر سنا نہیں جاتا اور تنخواہ پوچھو تو پانچ روپے۔اور احکام بالا دست کا معاملہ اس کے بالکل بر خلاف ہے۔  رہبانیت معرفت تامہ کا ذریعہ نہیں ہے اس قانون سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قانون اپنے بر گزیدوں سے ایسا ہی ہے۔خطر ناک ریاضتیں کرنا اور عضاء اور قویٰ کو مجاہدات میں بے کار کر دینا محض نکمی بات اور لا حاصل ہے۔اسی لئے ہمارے ہادی کامل علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:لا رھبانیۃ فی الاسلام یعنی جب انسان کو صفت اسلام(گردن نہاد ن برحکم خدا دمواقفت تامہ بمقاد یر آلہیہ)میسر آجائے،تو پھر رہبانیت یعنی ایسے مجاہدوں اور ریاضتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ (اس کے بعد سادھو صاحب تشریف لے گئے اور کھانا رکھا گیا۔حضرت اقدس نے فرمایا۔کہ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے رہبانیت کو نہیں رکھا۔اس لئے کہ وہ معرفت تامہ کا زریعہ نہیں ہے۔؎۱ ۱۰ اگست۱۸۹۹ء؁ سے قبل: دنیا کی خوشامد حضرت مولوی عبدالکریم صاحب تحریر فرماتے ہیں: میں نے بار ہا اپنے محبوب مرشد سید الاولیا عیسیٰ موعود علیہ السلام  کی زبان مبارک سے سنا ہے۔آپ فرماتے ہیں: