اور اپنے وجود کو پیش کر کیدنیا کو خد اتعالیٰ کا وجود منوانا چاہتے ہیں۔یہ ایک سیدھی بات ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف جس قدر کوئی قدم اٹھاتا ہے خدا تعالیٰ اس سے زیادہ سرعت اور تیزی کے ساتھ اس کی طرف آتا ہے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیںجب کوئی معزز آدمی کا منظور نظر عزیز اور واجب التعظیم سمجھا جاتا ہے تو کیا خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والا اپنے اندر ان نشانات میں سے کچھ بھی حصہ نہ لے گا جو خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور بے انتہا طاقتوں کا نمونہ ہے۔ مقربان بارگاہ الٰہی کا مقام یہ یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی غیرت کبھی تقاضا نہیں کرتی کہ اس کو ایسی حالت میں چھوڑے کہ ہو ذلیل ہو کر پیسا جاوے۔ نہیں بلکہ وہ خود وحدہ لا شریک ہے وہ اپنے اس بندے کو بھی ایک فرد اور لاشریک بنادیتا ہے۔دنیا کے تختہ پر کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ہر طرف سے اس پر حملے ہوتے ہیں اور ہر حملہ کرنے والا اس کی طاقت سے بے خبر ہو کر جانتا ہے کہ میں اسے تباہ کر ڈالوں گا،لیکن آخر اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا بچ نکلنا انسانی طاقت سے باہر کسی قوت کا کام ہے۔کیونکہ اگر اسے پہلے سے معلوم ہوتا تو وہ حملہ بھی نہ کرتا۔پس وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے حضور ایک تقرب حاصل کرتے ہیں اور دنیا میں اس کے وجود اور ہستی پر ایک نشان ہوتے ہیں ۔بظاہر اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ہر ایک مخالف اپنے خیا ل میں سمجھتا ہے کہ وہ مجھ سے بچ نہیں سکتا ،کیونکہ ہر قسم کی تدبیر اور کوشش کے نتائج اسے یہیں تک پہنچاتے ہیں،لیکن جب وہ اس زد میں سے ایک عزت اور احترام کے ساتھ اور سلامتی سے نکلتا ہے تو ایک دم کے لئے تو اسے حیران ہونا پڑتا ہے کہ اگر انسانی طاقت کا ہی کام تھا ،تو اس کا بچنا محال تھا،لیکن اب اس کا صحیح سلامت رہنا انسان کا نہیں بلکہ خدا کا کام ہے۔پس اس سے معلوم ہو اکہ مقربان بارگاہ الٰہی پر جو مخالفانہ حملے ہوتے ہیں،وہ کیوں ہوتے ہیں؟معرفت اور گیان کے کوچہ سے بے خبر لوگ ایسی مخالفتوں کو ایک ذلت سمجھتے ہیں،مگر ان کو کیا خبر ہوتی ہے کہ اس ذلت میں ان کے لئے ایک عزت اور امتیاز نکلتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے وجود اور ہستی پر ایک نشان ہوتا ہے۔اسی لئے یہ وجود آیات اللہ کہلاتے ہیں۔ غرض ہم جو اشتہار دے دے کر لوگوں کو بلاتے ہیں تو ہماری یہی آرزو ہے کہ ان کو اس خدا کا پتہ دیں جسے ہم نے پایا اور دیکھا ہے اور وہ قرب راہ بتلائیں،جس سے انسان جلد باخد ا ہو جاتا ہے۔پس ہمارے خیال میں قصہ کہانی سے کوئی معرفت اور گیان ترقی نہیں پا سکتا جب تک کہ انسان خود عملی حالت سے نہ دیکھے اور یہ بدوں اس راہ کے جو ہماری راہ ہے میسر نہیں اور اس راہ کے لئے ایسی صعوبتوں اور مشقتوں کی ضرورت نہیں۔یہاں دل بکار ہے۔خدا تعالیٰ کی نگاہ د ل پرپڑتی ہے اور جس دل میں محبت اور عشق ہو اس کو مورتی سے کیا غرض؟مورتی پوجا سے انسان کبھی صحیح اور یقینی نتائج پر پہنچ نہیں سکتا۔