ہمارے مذہب میں خدا تعالیٰ کو حاصل کرنے اوراس کے قدرت نمائیوں کے نظارے دیکھنے کے لئے ایسی تکالیف کے برداشت کرنے کی کچھ بھی حاجت نہیں،بلکہ وہ اپنے سچے پریمی بھگتوں کو آسان طریق سے جو ہم نے خود تجربہ کر کے دیکھ لیا ہے ،بہت جلد ملتا ہے۔انسان اگر اس کی طرف ایک قدم اٹھاتا ہے ،تو ہو دو قدم آگے اٹھاتا ہے۔انسان اگر تیز چلتا ہے تو دوڑ کر اس کے ہردے میں پرکاش کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی حالت غیب میں رہنے کی حکمت میرے نزدیک مورتی بنانے والوں نے خدا تعالیٰ کی اس حکمت اور راز
کو نہیں سمجھا جو اس نے اپنے آپ کو بظاہر اپنے آپ کو حالت غیب میںرکھا ہے۔خدا تعالیٰ کا غیب میں ہی ہونا انسان کے لئے تمام تلاش اور جستجو اور کل تحقیقاتوں کی راہوں کو کھولتا ہے۔جس قدر علوم اور معارف انسان پر کھلے ہیں،ہو گو موجود تھے اور ہیں،لیکن ایک وقت میں وہ غیب میں تھے۔انسان کی سعی اور کوشش کی قوت نے اپنی چمکار دکھائی اور گوہر مقصود کو پا لیا ۔جس طرح پر ایک عاشق صادق ہوتا ہے۔اس کے محبوب اور معشوق کی غیر حاضری اور بظاہر آنکھوں سے دور ہونا اس کی محبت میں کچھ فرق نہیں ڈالتا بلکہ وہ ظاہری ہجر اپنے اندر ایک قسم کی سوزش پیدا کر کے اس پریم بھاؤ کو اور بھی ترقی دیتا ہے۔اسی طرح پر مورتی لے کر خدا کو تلاش کرنے والا کب سچی اورحقیقی محبت کا دعوایدار بن سکتا ہے؛جبکہ مورتی کے بدوں اس کی توجہ کامل طور پر اس پاک اور کامل حسن ہستی کی طرف نہیں پڑ سکتی۔انسان اپنی محبت کا خود امتحان کرے۔اگر اس کو اس سوختہ دل عاشق کی طرح چلتے پھرتے،بیٹھتے اٹھتے غرض ہر حالت میں بیداری کی ہو یا خواب کی،اپنے محبوب کا ہی چہرہ نظر آتا ہے اور کامل توجہ اسی طرف ہے تو سمجھ لے کہ واقعی مجھے خدا تعالیٰ سے ایک عشق ہے اور ضرور ضرو خدا تعالیٰ کا پر کاش اور پریم میرے اندر موجود ہے،لیکن اگردرمیانی امور اور خارجی بندھن اور رکاوٹیں اس کی توجہ کو پھرا سکتی ہیں اور ایک لحظہ کے لئے بھی وہ خیال اس کے دل سے نکل سکتا ہے تو میںسچ کہتا ہوں کہ وہ خدائے تعالیٰ کا عاشق نہیں اور اس سے محبت نہیں کرتا اور اسی لئے وہ روشنی اور نور جو سچے عاشقوں کو ملتا ہے اسے نہیں ملتا۔یہی وہ جگہ ہے جہاں آکر اکثر لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے اور خدا کا انکار کر بیٹھے ہیں۔نادانوں نے اپنی محبت کا امتحان نہیں کیا اور اس کا وزن کئے بدوں ہ خدا پر بد ظن ہو گئے ہیں۔پس میرے خیال میں خدا تعالیٰ کا غیب میں رہنا انسان کو رشدکو ترقی دینے کی خاطر ہے اور اس کی روحانی قوتوں کو صاف کر کے جلا دینے کے لئے تاکہ وہ نور اس میں پرکاش ہو ہم جو بار بار اشتہار دیتے ہیں اور لوگوں کو تجربہ کے لئے بلاتے ہیں۔بعض لوگ ہم کو دوکان دار کہتے ہیں۔کوئی کچھ بولتا ہے کوئی کچھ۔غرض ان بھانت بھانت کی بولیوں کو سن کر جو ہم ہر ملک میں جو اس دنیا پر آباد ہے ۔یورپ۔امریکہ وغیرہ میں اشتہار دیتے ہیں اس کی غرض کیا ہے۔
ہماری غرض ہماری غرض بجزاس کے اور کچھ نہیں کہ لوگوں کو اس خدا کی طرف رہنمائی کریں جسے ہم نے خو دیکھا ہے۔سنی سنائی بات اور قصہ کے رنگ میں ہم خدا کو دکھانا نہیں چاہتے بلکہ ہم اپنی ذات