دیکھی جاویں اور اس سے بڑھ کر وہ جو خود انسان کی اپنی حالت پر وارد ہوں۔پس میرے اس سوال سے یہ غرض ہے کہ آپ کوئی ایسی بات بتلاویں،جو اس ریاضت کرنے والوں میں آپ نے دیکھی ہو یا سنی ہو۔ سادھو:ہاں جو ہمارے گرو تھے ان میں بعض بعض باتیں ایسی تھیں جو دوسرے کے من کی بات بوجھ لیتے تھے اور پھر جو منہ سے کہہ دیتے تھے ہو جاتا تھا اور پھر جو ان کے گرو تھے ان مین بھی بہت سی باتیں ایسی ہوتیں تھیں،مگر ان کو دیکھا نہیں؛تاہم دیکھنے کے برابر ہے،کیونکہ ان کو مرے کوئی اسی برس ہوئے اور ان کو دیکھنے والے ابھی موجود ہیں۔ حضرت اقدسؑ:آپ نے بھی کوئی ریاضتیں کیں تھیں؟ سادھو:جی ہاں ۔میں نے بھی کیں ہیں۔ حضرت اقدسؑ:اس میں کیا کھاتے تھے؟ سادھو:پہلے چاولوں کاآٹا کھایا کرتے تھے۔پھر صرف پانی جو پکا کر رکھا ہوا تھا یعنی ایک گاگر کا نصف جب رہ جاوے تو وہ رکھ لیا کرتے تھے اور اس میں سے سیر کچا صبح کو پی لیا کرتے تھے اور اسی وقت پیشاب کر لیا کرتے تھے اور کچھ نہیں۔ حضرت اقدسؑ:کیا سا میں لوہا وغیرہ تو نہ ہوتا تھا؟ سادھو:نہیں ۔ حضرت اقدسؑ:پھر کیا اس ریاضت کی حالت میں آپ کو کچھ عجیب وغریب نظارے نظر آئے؟ سادھو:ہاں کبھی روشنی نظر آتی تھی جو اندر ہو جاتی تھی اور دور دور سے آدمی آتے جاتے نظر آجاتے تھے۔(اس کے بعد چند منٹ خاموشی رہی۔پھر اس مہر سکوت کو سادھو صاحب نے اپنے اس ایک سوال سے توڑا ) (ایڈیٹر) سادھو:کیا آپ پرمیشر کو اکار مانتے ہیں یا نرا کار؟ (حضرت مولوی نور الدین صاحب نے اس موقعہ پر بطور تشریح عرض کیا کہ مورتی کے قابل یا ایسا خدا کے مورتی کی ضرورت نہ ہو) اسلام کا خدا حضرت اقدسؑ:ہم جس خدا کو مانتے ہیں۔اس کی عبادت اور پرستش کے لئے نہ تو ان مشقتوں اور نہ ہی ان ریاضتوں کی ضرورت ہے اور نہ کسی مورتی کی حاجت ہے۔اور