یکم اگست ۱۸۹۹ ء
معرفت الٰہی کے مو ضوع پر ایک ہندوسا دھوسے مکالمہ یکم اگست ۱۸۹۹ء کو بعد مغرب ایک مشہورہندو
سادھو صاحب حضرت اقدسؑ کی ملاقات کے لیے تشریف لائے اور حضورؑ سے باتیں کرتے رہے۔ یہ اس گفتگو کا خلاصہ یامفہوم ہے جس کو حافظہ کی مدد سے ہم نے اپنے الفاظ میں قلمبند کیا ہے۔ (ایڈیٹر الحکم)
حضرت اقدس ؑ:آپ کے ہاں جوگ کا طریق سنائن دھرم کے اُصول پر ہے یا آریہ سماج کے اصُول پر۔
سادھو: سناتن دھرم کے موافق۔
حضرت اقدسؑ: آریہ سماج ایک ایسا فرقہ ہے جس میں صرف کہنا ہے کرنا نہیں۔
سادھو:بیشک یہ لوگ گرُو کی ضرورت نہیں سمجھتے اور یہانتک کہ دیانند کو بھی گرُو کی حیثیت سے نہیں مانتے۔ کہتے ہیں کہ وہ ایک راہ بتا گیا ہے ، اس پر چلنا چاہیے۔
حضرت اقدسؑ:آپ کے جوگ کے لئے بڑی بڑی مشقتیںہیں۔
سادھو:جی ہاں۔
حضرت اقدسؑ:اس مشقت کے بعد کیا کوئی ایسی قوت اور طاقت پیدا ہو جاتی ہے جس سے اس پریم کا پتہ لگ جاوے جو اس ریاضت کرنے والے کو خدا کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ محبت کا پتہ اور وجود اس وقت تک نہیں ملتا،جب تک کہ دونوں طرف سے کامل محبت کا اظہار نہ ہو ۔ادھر سے محبت کے جوش میں ہر قسم کے دکھ اور تکالیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو اور ادھر سے یعنی پرمیشر کی طرف سے ایسا پرکاش (روشنی یا نور)اس کو ملے کہ وہ عام طور پر لوگوں میں متمیز ہو جاوے۔
سادھو:ہاں کچھ بل اور طاقت آہی جاتا ہے۔
حضرت اقدسؑ :بھلا کوئی ایسی طاقت اور بل کی بات آپ سنائیں جو آپ کی سنی ہوئی نہ ہو بلکہ دیکھی ہوئی ہو ۔یعنی آپ کے گروہ میں۔کیونکہ بات یہ ہے کہ سنی ہوئی بات کچھ ایسی موثر نہیں ہوتی خواہ وہ کتنی ہی صحیح کیوں نہ ہو بلکہ قصہ کہانی کے ذیل میں سمجھی جاتی ہے۔مثلاً جیسے کوئی کہے کہ کوئی دیش ہے،وہاں آدمی اڑا کرتے ہیں۔اب ہم کو اس کو ماننے میں ضرور کوئی تامل ہو گا ۔کیونکہ نہ تو ہم نے ایسے آدمی اڑتے ہوئے دیکھے ہیں نہ خود اڑے ہیں۔پس قوت ایمان اور یقین کے بڑھانے کے لئے سنی سنائی باتیں فائدہ نہیں پہنچاتی ہیں۔بلکہ تازہ بتازہ جو سامنے