باندھنے والا ضرور ہے۔ گھڑی کو اگر کسی نے بالا رادہ نہیں بنایا، تو وُہ کیوں اس قدر ایک باقاعدہ نظام کے ساتھ اپنی حرکت کو قائم رکھ کر ہمارے واسطے فائدہ مند ہوتی ہے۔ ایسا ہی آسمان کی گھڑی کہ اُس کی ترتیب اور باقاعدہ اور باضابطہ انتظام یہ ظاہر کرتا ہے کہ وُہ بالاارادہ خاص مقصد اورمطلب اور فائدہ کے واسطے بنائی گئی ہے ۔اس طرح انسان مصنُوع سے صانع کو اور تقدیر سے مقدر کو پہچان سکتا ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہستی کے ثبوت کا ایک اور ذریعہ قائم کیا ہوا ہے۔اور وُہ یہ ہے کہ وہ قبل ازوقت اپنے برگزیدوں کو کسی تقدیر سے اطّلاع دے دیتا ہے اور اُن کو بتلا دیتا ہے کہ فلاں وقت اور فلاںدن میں میںنے فلاںامر کو مقرّرکر دیاہے؛ چنانچہ وہ شخص جس کو خدا نے اس کام کے واسطے چُنا ہوا ہوتا ہے۔ پہلے سے لوگوں کو اطلاع دے دیتاہے کہ ایسا ہو گا اور پھر ایسا ہی ہوجاتاہے جیسا کہ اُس نے کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت کے واسطے یہ ایسی دلیل ہے کہ ہر ایک دہریّہ اس موقع پر شرمندہ اور لاجب ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہزاروںایسے نشانات عطا کیے ہیںجن سے اللہ تعالیٰ کی ہستی پر لذیذایمان پیدا ہوتا ہے۔ہماری جماعت کے اس قدر لوگ اس جگہ موجود ہیں۔ کون ہے جس نے کم ازکم دو چار نشان نہیں دیکھے اور اگر آپ چاہیںتو کئی سو آدمی کو باہر سے بلوائیںاور اُن سے پُوچھیں۔اس قدر احبار اور اخیار اور متقی اور صالح لوگ جو کہ ہر طرح سے عقل اور فراست رکھتے ہیںاور دُنیوی طور پر اپنے معقول روز گاروں پر قائم ہیں۔ کیا ان کو تسلی نہیں ہوئی۔ کیا اُنھوںنے ایسی باتیںنہیں دیکھیں جن پر انسان کبھی قادر نہیںہے۔ اگر ان سے سوال کیا جائے تو ہر ایک اپنے آپ کو اوّل درجہ کا گواہ قرار دے گا۔ کیا ممکن ہے کہ ایسے ہر طبقہ کے انسان،جن میںعاقل اور فاضل اور طبیب اور ڈاکٹر اورسوداگر اور مشائخ سجادہ نشین اور وکیل اور معزز عہدہ دار ہیں۔بغیر پُوری تسلی پانے کے یہ اقرار کر سکتے ہیںکہ ہم نے اس قدر آسمانی نشان بجشپم خود دیکھے؟اور جبکہ وہ لوگ واقعی طور پر ایسا اقرار کرتے ہیںجس کی تصدیق کے لیے ہر وقت شخص مکذب کو اختیار ہے، تو پھر سوچنا چاہیے کہ ان مجموعہ اقرارات کا طالب حق کے لیے اگر وہ فی الحقیقت طالب حق ہے کیا نتیجہ ہونا چاہیے۔ کم سے کم ایک نا واقف اتنا تو ضرور سوچ سکتا ہے کہ اگر اس گروہ میںجو لوگ ہر طرح سے تعلیمیافتہ اور دانا اور آسودہ روز گار اور بفضل الٰہی مالی حالتوں میںدوسروں کے محتاج نہیںہیں۔اگر اُنھوںنے پورے طور پر میرے دعوے پر یقین حاصل نہیںکیا اور پُوری تسلی نہیںپائی تو کیوں وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر اور عزیزوں سے علیحدہ ہو کر غربت اور مسافری میں اس جگہ میرے پاس بسر کرتے ہیں اور اپنی اپنی مقدرت کے موافق مالی امدادمیں میرے سلسلہ کے لیے فدااور دلدادہ ہیں ۔  ہر ایک بات کا وقت ہے ۔بہار کا بھی وقت ہے اور برسات کا بھی وقت ہے اور کوئی نہیں جو خدا کے ارادے ٹال دے۔