میں ہے،اس لئے جو کچھ خدا نے اس کو دیا ہے ،اس میں سے کچھ خدا کے نام کا دیا۔ حق یہ ہے کہ اگر وہ آنکھ رکھتا ،تو دیکھ لیتا کہ اس کا کچھ بھی نہیں۔سب کچھ خدا تعالیٰ کا ہی ہے۔یہ ایک حجاب تھاجو اتقا میںلازمی ہے۔اس حالت اتقا کے تقاضے نے متقی سے خدا کے دئے میں سے کچھ دلوایا ۔رسول اکرم ؐنے حضرت عائشہ سے ایام وفات میں دریافت فرمایا کہ گھر میں کچھ ہے ۔معلوم ہوا کہ ایک دینار تھا۔ فرمایا کہ یہ سیرت یگانگت سے بعید ہے کہ ایک چیز بھی اپنے پاس رکھی جاوے ۔رسول اکر م صلی اللہ علیہ والہ وسلم اتقا کے درجے سے گزر کر صلاحیت تک پہنچ چکے تھے ۔اس لئے مما ان کی شان میں نہ آیا۔ کیونکہ وہ شخص اندھا ہے جس نے کچھ اپنے پاس رکھا اور کچھ خدا کو دیا، لیکن یہ لاذمہ متقی تھا، کیونکہ خدا کی راہ میں دینے سے بھی اسے نفس کے ساتھ جنگ تھا۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کچھ دیا اور کچھ رکھا ہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلمنے سب کچھ خدا کی راہ میں دے دیا اور اپنے لئے کچھ نہ رکھا ۔
جیسے دھرم مہو تسو کے مضمون میں انسان کی تین حالتیں ذکر کی گئی ہیں جو انسان پر ابتدا سے انتہا تک وارد ہوتی ہیں۔ اسی طرح یہاں بھی قرآن کریم نے جو انسان کو تمام مراحل ترقی کے طے کرانے آیا۔اتقا سے شروع کیا ۔یہ ایک تکلف کا راستہ ہے۔ یہ ایک خطرناک میدان ہے ۔اس کے ہاتھ میں تلوار ہے اور مقابل بھی تلوار ہے ۔اگر بچ گیا تو نجات پا گیا ۔وَاِلَا اَسْفَلِ السَّافِلِیْنَ میں پڑ گیا ؛چنانچہ یہاں متقی کی سفات میں یہ نہیں فرمایا کہ جو کچھ ہم دیتے ہیں ،اسے سب کا سب خرچ کر دیتا ہے۔ متقی میں اس قدر ایمانی طاقت نہیں ہوتی جو نبی کی شان ہوتی ہے کہ وہ ہمارے ہادی کامل کی طرح کل کا کل خدا کا دیا ہوا خدا کو دے دے ۔اس لئے پہلے مختصر سا ٹیکس لگایا گیا ہے، تا کہ چاشنی چکھ کر زیادہ ایثار کے لئے تیارہو جائے۔
رزق سے مراد
وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ۔(البقرہ:۴)رزق سے مراد صرف مال نہیں، بلکہ جو کچھ ا ن کو عطا ہوا۔ علم، حکمت ،طبابت ۔یہ سب رزق میں شامل ہے۔ اس کو اسی میں سے خدا کی راہ میں بھی خرچ کرنا ہے۔
تدریج کے ساتھ تعلیم کی تکمیل
انسان نے اس راہ میں بتدریج اور زینہ بہ زینہ ترقی کرنا ہے۔ اگر انجیل کی طرح یہ تعلیم ہوتی کہ گال پر طمانچہ کھا کر دوسرے طمانچے کے لئے گال آگے رکھ دی جاوے۔ یا سب کچھ دے دیا جاوے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمان بھی عیسائیوں کی طرح تعلیم کے ناممکن التعمیل ہونے کے باعث ثواب سے محروم رہتے۔ لیکن قرآن شریف توحسب فطرت آہستہ آہستہ ترقی کراتا ہے۔ انجیل کی مثال تو اس لڑکے کی ہے جو مکتب میں داخل ہوتے ہی بڑی مشکل کتاب پڑھنے کے لئے مجبور کیا گیا۔ ہو اللہ تعالیٰ حکیم ہے ۔اس کی حکمت کا یہی تقاضہ ہونا چاہیے تھا کہ تدریج کے ساتھ تعلیم کی تکمیل ہو ۔
اس کے بعد متقی کے لئے فرمایا :وَالَّذِیْنَ یُوْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ(البقرہ:۵)یعنی وہ متقی ہوتے ہیں جو پہلی نازل شدہ کتب پر اور تجھ پر جو کتاب نازل ہوئی ،اس پر ایمان لاتے اور آخرت