نام خدا بخش تھا، اپنا نام خدا سنگھ رکھ لیا تھا۔ بلکہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اس قدر احسان ہیںکہ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکّہ میں گزارہ ہو سکتاہے اور نہ قسطنطنیہ میں، تو پھر کس طرح سے ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے بر خلاف کوئی خیال اپنے دل میں رکھیں۔ اگر ہماری قوم کو خیال ہے کہ ہم گورنمنٹ کے برخلاف ہیں یا ہمارا مذہب غلط ہے تو ان کو چاہیے کہ وُہ ایک مجلس قائم کریں۔اس میں ہماری باتوں کو ٹھندے دل سے سُنیں تاکہ ان کی تسلّی ہواور اُن کی غلط فہمیاںدُور ہوں۔
جھوٹے کے مُنہ سے بدبو آتی ہے اورفراست والا اُس کو پہچان جاتا ہے۔ صادق کے کام سادگی اور یکرنگی سے ہوتے ہیں اور زمانہ کے حالات اس کے موید ہوتے ہیں۔
ضرورت زمانہ آجکل دیکھنا چاہیے کہ لوگ کس طرح عقائدحقّہ سے پھر گئے ہیں۔۲۰ کروڑ کتاب اسلام کے خلاف شائع ہوئی اور کئی لاکھ آدمی عیسائی ہوگئے ہیں۔
ہر ایک بات کے لیے ایک حد ہوتی ہے اور خشک سالی کے بعد جنگل کے حیوان بھی بارش کی امید میں آسمان کی طرف مُنہ اُٹھاتے ہیں۔آج ۱۳۰۰ برس کی دھوپ اور امساک باراں کے بعد آسمان سے بارش اُتری ہے۔ اب اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ برسات کا جب وقت آگیا ہے، تو کون ہے جو اُس کوبند کرے۔یہ ایسا وقت ہے کہ لوگوں کے دل حق سے بہت ہی دُور جا پڑے ہیں۔ ایسا کہ خود خدا پر بھی شک ہو گیا ہے۔
ایمان باللہ کی اہمیّت حالانکہ تمام اعمال کی طرف حرکت صرف ایمان سے ہوتی ہے۔ مثلاً سمّ الفار کو اگر کوئی شخص طبا شیر سمجھ بے تو بلا خلاف وخطرکئی ماشوں تک
کھا جاوے گا۔ اگر یقین رکھتا ہو کہ یہ زہر قاتل ہے تو ہر گز اس کو مُنہ کے قریب بھی نہ لائے گا۔ حقیقی نیکی کے واسطے یہ ضروری ہے کہ خُدا کے وجود پر ایمان ہو،کیونکہ مجازی حکام کو یہ معلوم نہیں کہ کوئی گھر کے اندر کیا کرتا ہے اور پس پردہ کسی کا کیا فعل ہے۔ اور اگرچہ کوئی زبان سے نیکی کا اقرار کرے، مگر اپنے دل کے اندر وُہ جو کچھ رکھتا ہے اس کے لیے اُس کو ہمارے مئواخذہ کا خوف نہیں اور دُنیا کی حکومتوں میںسے کوئی ایسی نہیں جس کا خوف انسان کو رات میںاور دن میں، اندھیرے میں اوراُجالے میں،خلوت میں اورجلوت میں،ویرانے میںاور آبادی میں، گھر میں اور بازار میںہر حالت میںیکساںہو۔ پس دُرستی اخلاق کے واسطے ایسی ہستی پر ایمان کا ہونا ضروری ہے جو ہر حال اور ہر وقت میںاس کی نگران اور اس کے اعمال اور افعال اور اس کے سینہ کے بھیدوں کی شاہد ہے ۔کیونکہ دراصل نیک وہی ہے جس کا ظاہر اور باطن ایک ہواور جس کا دل اور باہر ایک ہے۔وہ زمین پر فرشتہ کی طرح چلتا ہے۔دہریّہ ایسی گورنمنٹ کے نیچے نہیںکہ وُہ حُسن اخلاق کو پا سکتے۔ تمام نتائج ایمان سے پیدا ہوتے ہیں؛چنانچہ سانپ کے سُوراخ کو پہچان کر کوئی انگلی اس میںنہیں ڈالتا۔جب ہم جانتے ہیں کہ ایک مقدار اسٹرکینیا کی قاتل ہے، تو ہمارا اس کے قاتل ہونے پرایمان ہے اور اس ایمان کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اس کو مُنہ نہیں لگائیں گے اور مرنے سے بچ جائیں گے۔
خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت تقدیر یعنی دُنیا کے اندر تمام اشیاء کاایک اندازہ اور قانون کے ساتھ چلنا اور ٹھہرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا کوئی
مُقدّر یعنی اندازہ