اور جھوٹ کے ساتھ ہمارے بر خلاف مشہور کی ہیں یہان تک کہ ہم کو ضرر پہنچانے کے واسطے گورنمنٹ تک غلط رپورٹیں کیں کہ یہ مفسدآدمی ہیں اور بغاوت کے ارادے رکھتے ہیں اور ضرور تھا کہ یہ لوگ ایسا کرتے ،کیونکہ نادانوں نے اپنے خیر خواہوں یعنی انبیاء اور ان کے وارثین کے ساتھ ہمیشہ اور ہر زمانہ میں ایسا ہی سلوک کیا ہے ،مگر خدا تعالیٰ نے انسان میں ایک زیر کی رکھی ہے اور گورنمنٹ کے کارکن ان لوگوں کوخوب جانتے ہیں۔
کپتان ڈگلس کی دانائی اور انصاف چنانچہ کپتان ڈگلس صاحب کی دانائی کی طرف خیال کرنا چاہیے کہ جب مولوی محمد حسین صاحب
بٹالوی نے میری نسبت کہا کہ یہ بادشاہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اشتہار اس کے سامنے پڑھا گیا ،تو اس نے بڑی زیر کی سے پہچانا کہ یہ سب ان لوگوں کا افتراء ہے اور ہمارے مخالف کی کسی بات پر توجہ نہ کی ،کیوںنکہ اس میں شک نہیں کہ ازالہ اوھام وغیرہ دوسری کتب میں ہمارا لقب سلطان لکھا ہو ا ہے،مگر یہ آدسمانی سلطنت کی طرف اشارہ ہے اور دنیوی بادشاہوں سے ہمارا کچھ سرو کار نہیں ایسا ہی ہمارا نام حکم عام بھی ہے۔جس کا ترجمہ انگریزی میں کیا جائے تو گورنر جنرل ہوتا ہے اور شروع سے یہ سب باتیں ہمارے رسول اکرم کی پیش گوئیوں میں مشہور ہیں کہ آنے والے مسیح کے یہ نام ہیں۔یہ سب ہمارے خطاب کتابوں میں موجود ہین اور ساتھ ہی ان کی تشریح بھی موجود ہے کہ یہ آسمانی سلطنتوں کی اصطلاحیں ہیں اور زمینی بادشاہوں سے ان کا تعلق نہیں ہے۔ اگر ہم شر کو چاہنے والے ہوتے تو ہم جہاد وغیرہ سے لوگوں کو کیوں روکتے اور درندگی سے ہم مخلوقات کو کیوں منع کرتے۔غرض لپتان ڈگلس صاھب عقل سے ان سب باتوں کو پا گیا اور پورے پورے انصاف سے سب کام لیا اور دونوں فریق میں سے ذرا بھی دوسری طرف نہیں جھکا اور ایسا نمونہ انصاف پروری اور داد رسی کا دکھلایا کہ ہم بدل خواہش مند ہیں کہ ہماری گورنمنٹ کے تمام معزز احکام ہمیشی اسی اعلیٰ درجہ کے نمونہ انساف کو دکھلاتے رہیں گے جو نو شرروانی انصاف کو بھی اپنے کامل انصاف کی وجہ سے ادنی درجہ کا ٹھہراتا ہے اور یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی اس گورنمنٹ کے پر امن زمانہ کو برا خیال کرے اور اس کے بر خلاف منصوبہ بازی کی طرف اپنا ذہن لے جاوے۔
سکھوں کے زمانے میںمسلمانوں پر مظالم یہ ہمارے دیکھنے کی باتیں ہیں کہ سکھّوں کے زمانہ میں مُسلمانوں کو کس قدر تکلیف
ہوتی تھی۔ صرف ایک گائے کے اتفاقاًذبح کیے جانے پر سکھّوں نے چھ سات ہزار آدمیوں کو تہ تیغ کر دیا تھا اور نیکی کی راہ اس طرح پر مسدُود تھی کہ ایک شخص مسمّی کمّے شاہ اس آرزُو میں ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر دُعائیں مانگتا تھا کہ ایک دفعہ صحیح بخاری کی زیارت ہو جائے اور دُعا کرتا کرتا رو پڑتا تھا اور زمانہ کے حالات کی وجہ سے نا امید ہو جاتا تھا۔ آج گورنمنٹ کے قدم کی برکت سے وہی صحیح بخاری چار پانچ روپے میںمل جاتی ہے۔اور اُس زمانہ میںلوگ اس قدر دُور جا پڑے تھے کہ ایک مُسلمان نے جسک