سلسلہ احمدیہ کے قیام کا مقصد
جولائی۱۸۹۹ء
ایک معزز افسر جو کسی تقریب پر اگلے دن قادیان تشریف لائے،تو حضرت اقدس امامنا مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان نے بھی ان کی دعوت کی جبکہ سب مہمان کھانے کے لئے جمع ہوئے تو دستر خاون کے بچھائے جانے سے پہلے حضرت اقدس نے اس مہمان کو اور دوسرے احباب کو مخاطب کر کے فرمایا۔؎۱
’’جب کبھی آپ اس جگہ قادیان میں تشریف لایں،بے تکلف ہمارے گھر میں تشریف لایا کریں۔ہمارے ہاں مطلقاً تکلف نہیں ہے۔ہمارا سب کاروباردینی ہے۔اور دنیا اور اس کے تعلقات اور تکلفات سے بالکل ہم جدا ہیں۔گویا ہم سنیا داری کے لحاظ سے مثل مردہ کہیں۔ہم محض دین کے ہیں اور ہمارا سن کارکانہ دینی ہے۔جیسا کہ اسلام میں ہمیشہ بزرگوں اور اماوں کا آتا ہے۔اور ہمارا کوئی نیا طریق نہیں بلکہ لوگوں کے اس اعتقادی طریق کو جو کہ ہر طرح سے ان کے لئے خطرناک ہے دور کرنا اور ان کے دلوں سے نکالنا ہمارا اصل منشاء اور مقصود ہے مثلاً بعض نادان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ غیر قوموں کے لوگوں کی چیزیں چرا لینا جائز ہے اور کافروں کا مال ہمارے لئے حلال ہے اور پھراپنی نفسانی خواہشوں کی خاطر اس کے مطابق حدیثیں گھڑ رکھی ہیں ۔پھر وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ جو دوباتہ دنیا میں آنے والے ہیں ،تو ان کا کام لاٹھی مارنا اور خونریزیاں کرناہے؛حالانکہ جبر سے کوئی دین دین نہیں ہو سکتا ۔غرض اس قسم کے خوفناک عقیدے اور غلط خیالات ان لوگوں کے دلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔جن کو دور کرنے کے واسطے اور پر امن عقائد ان کی جگہ قائم کرنے کے واسطے ہمارا سلسلہ ہے۔جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے کہ مصلحوں کی اور اولیاء اللہ کی اور نیک باتں سکھانے والوں کی دنیا دار مخالفت کرتے ہیں۔ایسا ہی ہمارے ساتھ بھی ہوا ہے اور مخلافوں نے غلط خبریں محض افترا