کے منجان اللہ ہونے پر دلالت کرتا ۔‘‘فرمایا۔’’میرے ساتھ خدا تعالیٰ کے معاملات اور تصرفات اور اس کے نشان میری تائید میں عجیب ہیں کچھ تو میری ذات کے متعلق ہیں۔کچھ میری اولاد کے متعلق ہیں اور کچھ میرے اہل بیعت کے متعلق ہیں اور کچھ میرے دوستوں کے متعلق ہیں اور کچھ میرے مخالفوں کے متعلق ہیں اور کچھ عامۃ الناس کے متعلق ہیں۔ لاہوری ملہم کے دوستوں میں سے ایک حافظ صاحب کا پیغام پہنچا کہ وہ گزشتہ نشانوں کا حوالہ سننا نہیں چاہتے تھے۔اس پر حجرت مسیح موعود نے فرمایا: بار بار ملنے کی تلقین افسوس کے یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ کی کوئی بات بھی ناقدر دانی کے قابل نہیں ہوتی۔کیا یاک قوم کو ان سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ  نہیں کہا ۔اولم یکفھم انا انزلنا علیک الکتب یتلیٰ علیھم(العنکبوت:۵۲)کیا یہ گذشتہ نشانوں کا حوالہ نہیں۔‘‘فرمایا۔’’اب ایسا وقت ہے کہ ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ بہت دفعہ ملاقات کیا کریں،نئے نئے نشانوں کو دیکھنے سے جو روز بروز نازل ہوتے ہیں۔ان کے ایمان وتقویٰ میں ترقی ہو۔؎۱