کرے گا ۔بس یہی کہ کچھ اور بھی؟‘‘فرمایا۔’’یہ لوگ نہیں سوچتے کہ وہ بات کیا ہے جس سے اتنے کروڑ نصاریٰ پر حجر حق پوری ہو کیونکہ اگر نری تلوار ہو تو وہ تو احقاق حق کے لئے کبھی آلہ بن نہیں سکتی۔کیا ایمان کبھی درشتی سے دلوں میں اتر سکتا ہے اورحجت اللہ اکراہ سے کسی کے دل کو فریفتہ کر سکتی ہے؟وہ تو اور بی الزام کا موجب ہے کہ ان لوگوں کے ہاتھ میں بجز لٹھم لٹھا ہونے کے دلیل کوئی نہیں ۔‘‘فرمایا۔’’آگے تھوڑا مخلفین الزام لگاتے ہیںکہ اسلام بزور شمشیر پھیلایا گیا ہے اور مسلمان اسے یون سچا کر دینا چاہتے ہیں اور معمولی کرامات ومعجزات سے بھی یورپ ودیگر نصاریٰ پر اثر نہیں پڑ سکتا،اس لئے کہ ان کی کتاب میں لکھا ہے کہ بہت سے جھوٹے نبی آئیں گے جو نشان دکھائیں گے۔پھر اب کیا ہے بجز اس کے کوئی ایسی حجت ظاہر ہو جس کے آگے گردنیں خم ہو جائیں اور وہ وہی راہ ہے جو خدا میرے ہاتھ سے پوری کرے گا۔‘‘  مامور سے مقابلہ کی تین راہیں اسی ہفتہ لاہوری ملہم صاحب کا خط آیا۔جس میںاس نے حضرت مسیح موعود اور آپ کے سلسلے کے خلاف ایک دو  پیش گوئیاں کی تھیں۔اس کے متعلق آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ان لوگوں کی ہمدردی کے لئے کس قدر میرے دل میں تڑپ اور جوش ہے اور میں حیران ہوں کہ کس طرح ان لوگوں کو سمجھاوں۔یہ لوگ کسی طرح بھی مقابلے میں نہیں آتے۔تین ہی راہیں ہیں یا گذشتہ زمانہ کے نشانوں سے میرا مقابلہ کر لیں یا آئیندہ نشانوں میں مقابلہ کر لیں اور نہی تو یہی دعا کریں کہ جس کا وجود نافع الناس ہے وہ بموجب وعدہ الیہ واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض(الرعد:۱۸)دراززندگی پائے۔پھر عیاں ہو جائے گا کہ خدا تعالیٰ کی نگا ہ میں کون مقبول و منظور ہے۔‘‘فرمایا: خدا ئی الہام کا معیار ’’افسوس یہ لوگ چھوٹے چھوٹے معمولی الہامی ٹکروں اور خوابوؓ پر اترائے بیٹھے ہیں اور سمجھ نہیں سکتے کہ کسی الہام کے خدا کی طرف سے  ہونے اور دخل شیطان سے پاک ہونے کا معیار کیا ہے؟معیار یہی ہے کہ اس (خدائی الہام)کے ساتھ نصرت الہی ہو اور اقتداری علم غیب اور قاہر پیش گوئی کے ساتھ ہو؛ورنہ وہ فضول باتیں ہیں جو نافع الناس نہیں ہو سکتیں۔‘‘فرمایا۔’’اگر کوئی شخص کسی جلسے کے وقت دور بیٹھا ہوا کسی عظیم الشان بادشاہ کی باتیں معمولاً سن لے اور لوگوں کے سامنے آکر کہے کہ میں نے فلاں بادشاہ کی باتیں سنی ہیں تو اس کے کہنے سے اسے اور دوسرے لوگوں کو کیا حاصل؟تقرب سلطانی کے بعد کی باتوں کے نشان اور ہی ہوا کرتے ہیں۔جنھیں دیکھ کر ایک عالم پکار اٹھتا ہے کہ فلاں شخص درحقیقت بادشاہ کا مہبط کلام وسلام ہے۔‘‘فرمایا۔’’اگر میرے الہامات بھی ویسے ہی معمولی اور فضول ٹکڑے ہوتے۔اور ہر ایک میں علم الغیب اور اقتداری پیش گوئیں نہ ہوتی تو میں انہیں محض ہیچ سمجھتا ۔‘‘فرمایا۔’’بھلا کوئی شخص لیکھرام والی پیش گوئی کے برابر کوئی ایک ہی الہام بتا دے۔‘‘فرمایا۔’’میرے الہاموں سے قوم کو فائدہ اور قوموں کو فائدہ ہوتا ہے اور یہی معیار بڑا بھاری میار ہے جو میرے الہامات