ہفتہ مختتمہ۱۰ جولائی۱۸۹۹؁ء ایک دینی خوشخبری پر بے پایاں مسرت اس ہفتہ میں جو سب سے عجیب اور دلچسپ بات واقع ہوئی اور جس نے ہمارے ایمانوں کو  بڑی قوت بخشی وہ ایک چٹھی کاحضرت کے نام آنا تھا۔اس میں پختہ ثبوت اور تفصیل سے لکھا تھا کہ جلال آباد(علاقہ کابل) کے علاقے میں یوز آسف نبی کا چبوترہ موجود ہے اور وہاں مشہور ہے کہ دو ہزار برس ہوئے کہ یہ دونوں نبی شام سے یہاں آیا کرتاتھا اور سرکار کابل کی طرف سے کچھ جاگیر بھی اس چبوترے کے نام ہے۔زیادہ تفصیل کا محل نہیں۔اس خط سے حضرت اقدس اس قدر خوش ہوئے کہ فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ گواہ اور علیم ہے کہ اگر کوئی مجھے کروڑوں روپے لا دیتا تو میں کبھی اتنا خوش نہ ہوتا جیسا اس خط نے مجھے خوشی بخشی ہے۔‘‘ برادران!دینی بات پہ یہ خوشی کیا منانب اللہ ہونے کا نشان نہیں؟کون ہے جو آج اعلائے کلمۃ اللہ کی باتوں پر ایسی خوشی کرے؟ ایک رویاء اور اس کی تعبیر ہمارے دین کی تجوید اور تقویت کے لئے ایک نشان یہ ظاہر ہو اکہ ظہر کے وقت اچانک یہ خط آتا ہے اور صبح حضرت اقدس کو  یہ رویا ہوتی ہے کہ حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ ہند گویا حضرت اقدس کے گھر میں رونق افروز ہوئی ہیں۔ حضرت اقدس رویا ء میں عاجز عبد لکریم کو جو اس وقت حجور کے پاس بیٹھا تھا۔فرماتے ہیں کہ ملکہ معظمہ کمال شفقت سے ہمارے ہاں قدم رنجہ فرما ہوئی ہیں اور دو روز قیام فرمایا ہے۔ان کا کوئی شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے۔ اس رویا کی تعبیر یہ تھی کہ حضرت کے ساتھ کوئی نصرت الہی شامل ہوا کرتی ہے۔اس لئے کہ حضرت ملکہ معظمہ کا اسم مبارک وکٹوریہ ہے،جس کے معنی ہیں۔مظفرہ منصورہ اور نیز چونکہ اس وقت حجرت ملکہ معظمہ روئے زمین کے سالطین میں سب سے زیادہ کامیاب اور خوش نصیب ہیں،اس لئے آپ کا مہربانی کے لباس میں آپ کے مکان میں تشریف لانا بڑی برکت و کامیابی کا نشان ہے۔خدا کا علم وقدرت دیکھے۔ظہر کے وقت اس رویا کی صحیح تعبیر پوری ہو گئی۔اللہ اللہ! اس سے زیادہ نصرت کیا ہے ایسے سامان مل رہے ہیں کہ جن سے دنیا کے کل نصارٰی پر خدا کی روشن حجت پوری ہوتی ہے۔ مسیح موعود کا مشن حضرت مسیح موعو د نے فرمایا۔’’میں حیران ہوتا ہوں کہ ان کا فرضی مسیح اور کام کیا کرتا یا کرے گا؟اس کی اوقت زندگی کی یہی تقسیم بتاتے ہیں کہ  دن کا ایک حصہ تو لکڑی یا لوہے یا پیتل یا سونے چاندی کی صلیبوں کے توڑنے میں بسر کرے گا اور ایک حصہ سوروں کے قتل کرنے میں صرف