نئے سرے سے پیدا ہوتا ہے۔‘‘ پھر فرمایا۔’’ یہ جاڑا بھی خوفناک ہی نظر آتا ہے‘‘۔ فرمایا۔’’ اطّبا بڑے بڑے پرہیزوں اور حفظ ماتقدم کے لیے احتیاطیں بتاتے ہیں؛ اگرچہ سلسلہ اسباب کا اور اُن کی رعایت دُرست ہے، مگر میں کہتا ہوں کہ محدوُدالعلم ضعیف انسان کہانتک بچار بچار کر غذا اور پانی کا استعمال کیا کرے۔ میرے نزدیک تو استغفار سے بڑھ کر کوئی تعویز وحرزا اور کوئی احتیاط و دوانہیں۔ میں تو اپنے دوستوں کو کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے مصلحت وموفقت پیدا کرو اور دعاؤں میں مصروف رہو۔ ایک حدیث کا مطلب فرمایا:’’میں تو بڑی آرزو رکھتا ہوں اور دعائیں کرتا ہوں کہ میرے دوستوں کی عمریں لمبی ہوں،تا کہ اس حدیث کی خبر پوری ہو جائے  جس میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے زمانے میں چالیس برس موت دنیا سے اٹھ جائے گی،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں جو نافع الناس اور کام کے آدمی ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ان کی زندگی میں برکت بخشے گا۔‘‘ ۱۰جولائی۱۸۹۹؁ء سے قبل ’’مجھے خوب یاد ہے کہ جس روز سٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ صاحب قادیان میں حضرت کے مکان کی تلاشی کے لئے آئے تھے اور قبل از وقت اس کا کوئی پتہ اور خبر نہ تھی اور نہ ہو سکتی تھی۔ اللہ تعالی مامورین کی رسوائی پسند نہیں کرتا اس کی صبح کو کہیں سے ہمارے میر صاحب نے سن لیا کہ آج وارنٹ ہتھکڑی سمیت آوے گا۔میر صاحب حواس باختہ سراز نشناختہ حضرت کو اس کی خبر کرنے اندر دوڑے گئے اور غلبہ رقت کی وجہ سے بصد مشکل اس ناگوار خبر کے منہ سے برقع اتارا۔حضرت اس وقت نور القرآن لکھ رہیتھے اور بڑا ہی لطیف اور ناذک مضمون در پیش تھا۔سر اٹھا کر اور مسکرا کر فرمایا کہ: ’’میر صاحب!لوگ دنیا کی خوشیوں میں چاندی سونے کے کنگن پہنا ہی کرتے ہیں،ہم سمجھ لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں لوہے کے کنگن پہن لئے۔‘‘پھر ذرا تامل کے بعد فرمایا۔’’مگر ایسا نہ ہو گا،کیونکہ خدا تعالیٰ کی اپنی گورنمنٹ کے مصالح ہوتے ہیںوہ اپنے خلفائے مامورین کی رسوائی پسند نہیں کرتا۔‘‘؎۲