رات کس درد سے حضرت امامؑ فرماتے ہیں۔ آہ! اب تو خدا کے سوا کوئی بھی ہمارا نہیں ۔اپنے پرائے سب ہی اس پر تُلے ہوئے ہیں کہ ہمیں ذلیل کر دیں ۔رات دن ہماری نسبت مصائب اور گردشوںکے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ اب اگر خدا تعالیٰ ہماری مدد نہ کرے ، تو ہمارا ٹھکانہ کہاں۔‘‘؎۱
۲۵ جون ۱۸۹۹ء
صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کا عقیقہ صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کے عقیقہ کے لیے ۲۵ جون اتوار کا دن مقرر تھا۔ حضرت اقدسؑ نے اس کام کا اہتمام منشی نبی بخش صاحب کے سپرد کیا تھا، مگر اس دن صبح صادق سے پہلے بارش شروع ہو گئی۔صبح کی نماز معمول سے سویرے پڑھی گئی اور دوست تاریکی اور ٹھنڈی ہوا کی وجہ سے سو گئے۔جب دن چڑھے حضرت اقدسؑ بیدار ہوئے تو دریافت کیا کہ عقیقہ کا کوئی سامان نظر نہیں آتا۔ گائوں کے لوگوں کو دعوت کی گئی تھی اور باہر سے بھی کچھ احباب تشریف لائے تھے۔ حضرتؑ کو فکر ہوئی کہ مہمانوں کو ناحق تکلیف ہوئی۔ ادھر مہتمم منشی صاحب بڑے مضطرب اور نادم تھے کہ حضور پاک میں کیا عذر کروں۔ منشی صاحب حاضر ہوئے اور معذرت کی۔ خیر کریم انسان اور رحیم ہادی کی ذات میں دُرشتی اور سخت نکتہ چینی تو تھی ہی نہیں۔فرمایا اچھا فُعل ما قُدر ۔‘‘تاہم مہتمم صاحب بار بار معذرت کے لیے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں دوڑے جاتے۔ اُن کے اس حال کودیکھ کر حضرت اقدسؑ کو اپنی ایک رویا یاد آ گئی جو چودہ سال ہوئے دیکھی تھی۔ جس کا مضمون یہ ہے کہ ایک چوتھا بیٹا ہو گا اور اس کا عقیقہ سوموار کو ہو گا۔‘‘
خدا تعالی کی بات کے پورا ہونے اور اللہ تعالی کے اس عجیب تصّرف سے حضرت اقدسؑ کو بڑی خوشی ہوئی۔ دُوسرے دن سوموار کو جب سب خدّام صحن اندرون خانہ میں بیٹھے تھے اور صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کا سر مونڈا جا رہا تھا۔ حضرت اقدسؑ نے بڑے جوش اور خوشی سے یہ رویا سُنائی۔؎۲
۳۰ جون ۱۸۹۹ء
رات کو امراض وبائیہ کا تذکرہ ہوا۔ فرمایا:
’’ــیہ ا یّام برسات کے معمولاً خطرناک ہوا کرتے ہیں۔ ہند کے طبیب کہتے ہیں کہ ان تین مہینوں میں جو بچ رہے، وہ گویا