صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے سے مشابہ ہو گیا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ مفتری کو مہلت مل سکتی ہے،تو اس امر کا ثبوت دے،مگر مسلمان تو ایسا کہہ ہی نہیں سکتا۔پس ہمارے مخالف اب بتلائیں کہ کیا ایک کاذب دجال مفتری علی اللہ طرز استدلال نبوت میں شرک ہو سکتا ہے؟ماننا پڑے گا کہ ہر گز نہیں۔پھر وہ ہمارے دعوی کو سوچیں اور اس زمانہ پر غور کریں جو استدلال نبوت کا زمانہ ہے۔غرض ہر پہلو میں بہت سی باتیں ہیں جو سوچنے والے کو مل سکتی ہیں اور ایک دور اندیش ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؛ ؎۱ ۲۲جون۱۸۹۹؁ء حضرت اقدس نے کل باتوں باتوں میں فرمایا :کہ  ’’یقینا یاد رکھو کہ خدا اپنے بندے کو کھبی ضائع نہیںکریگا اور ہر گز نہیں اُٹھائے گا، جبتک اُس کے ہاتھ سے وُہ باتیں پوری نہ ہو جائیں۔ جن کے لیے وہ آیا ہے۔ اسے کسی کی خصومت اور کسی کی بددُعا کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتی ۔‘‘ اس کی تحریک یوُں ہوئی کہ کسی نے کہا کہ اب مخالف مُلہم صاحب کہتے ہیں کے اس سلسلہ کی تباہی اب قریب ہے ۔ کبُرت کلمۃ تخرُجُ من افواھھم ان یقُو لوُن الا کذبا(الکہف:۶)پھر بڑے دل سے فرمایاکہ: تقوی و طہارت ’’ کل( یعنی ۲۲ جون ۱۸۹۹؁ء) بہت دفعہ خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ تم لوگ متقی بن جاو اور تقوی کی باریک راہوں پر چلو تو خدا تمھارے ساتھ ہو گا۔‘‘ فرمایا: ’’اس سے میرے دل میں بڑا درد پیدا ہوتا ہے کے میں کیا کروں کہ ہماری جماعت سچا تقوی و طہارت اختیار کر لے۔‘‘ پھرفر مایا کہ’’ میں اتنی دُعا کرتا ہوں کہ دُعا کرتے کرتے ضعف کا غلبہ ہوجاتاہے اور بعض اوقات غشی اور ہلاکت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔‘‘ فرمایا جبتک کوئی جماعت خدا تعالی کی نگاہ میں متقی نہ بن جائے۔ خداتعالیٰ کی نُصرت اس کے شامل حال نہیں ہو سکتی۔‘‘ فرمایا تقوی خُلاصہ ہے تمام صُحف مقدسہ اور توریت ؔو انجیل ؔکی تعلیمات کا۔ قرآن کریم نے ایک ہی لفظ میںخدا تعالی کی عیظم الشان مرضی اور پوُری رضا کا اظہار کر دیا ہے۔‘‘ فرمایا۔’’ میں اس فکر میں ہوں کہ اپنی جماعت میں سے سچے متقیوں دین کو دُنیا پر مقدم کرنے والوں اور منقطعین الی اللہ کو الگ کروں اور بعض دینی کام انہیں سپرد کروں اور پھر میں دُنیا کے ہم و غم میں مبتلا رہنے والوں اور رات دن مُردار دُنیا ہی کی طلب میں جان کھپانے والوں کی کچھ پروانہ کروں گا ۔‘‘