کا موقع ملتا ہے۔کتاب الہ پر غور کرنے کا ان کو خیال تک بھی ہیں ہے آتا۔ایسی صورتے میں جب ایک زمانی طلمت کا گزر جاوے تو یہ خیالات راسخ ہو کر طبیعت ثانیہ کا رنگ پکڑ جاتے ہیں۔پس اس وقت اگر انسان توبہ واستغفار کی طرف توجہ نہ کرے تو سمجھو کہ بڑا ہی بدقسمت ہے۔گفت اور سستی کا بہترین علاج استغفار ہے۔سابقہ غفلتوں اور سستیوں کی وجہ سے کوئی ابتلا ء بھی آجاوے تو روتوں کو اٹھ اٹھ کر سجدے اور دعائیں کرے اور خدا تعالیٰ کے حضور ایک سچی اور پاک تبدیلی کا وعدہ کرے۔
۲۲اپریل۱۸۹۹ء
افتراء کرنے والا کبھی مہلت نہیں پا سکتا ہمارے دعویٰ الہام ومکالمہ الہیہ کی اشاعت کو یوں تو بہت سال گزرے،لیکن اگر براہین کی
اشاعت سے بھی لیا جائے تو بیس سال ہو چکے ہیں۔ہمارے مخالف جو ہم کو جھوٹا اور اپنے دعوے میں مفتری قرار دیتے ہیں۔ان سے کوئی سول کرے کہ خدا تعالیٰ تو کسی مفتری کو جو اس الہام اور مکالمہ کا فترا کرے مہلت نہیں دیتا۔یہاںتک کہ رسول اکرم صلی الہ علہ والہ وسلم کو بھی فرمایا کہ اگر تو بعض باتیں اپنی طرف سے کہتا۔تو ہم شاہ رگ سے پکڑ لیتے۔پھر کسی اور کی کیا خصوصیت ہو سکتی ہے؟اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر الہام کا فترا ء کرنے والا کبھی بھی مہلت نہیں پا سکتا۔اب ہم پوچھتے ہیں کہ ہمارا یہ سلسلہ خدا تعالیی کا قائم کردہ نہیں ہے۔تو کسی تاریخ سے ہمیں یہ پتہ دو کہ خدا تعالیٰ پر کسی نے افترا کیا ہو اور پھر اسے مہلت دی گئی ہو۔ہمارے لئے تو یہ معیار صاف ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا زمانہ ۲۳ سال کا یک دراز زمانہ ہے۔اس صادق اور کامل نبی کے زمانے سے قریباً ملتا ہوا زمانہ اب تک ہم کو دیا ۔کیونکہ براہین کی اشاعت کو بیس سال ہوئے جو نا عاقبت اندیش معترضوں کے نزدیک افتراء کا پہلا زمانہ ہے۔اب تک تو ہم ایک مسلم اور صادق بلکہ جمہ سرتاجوں کے سرتاج صادق کے زمانے سے ملتا ہوا زمانہ پیش کرتے ہیں اور یہ ظالم کہے جاتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔افسوس ہماری تکذیب کے خیال میں یہ لوگ یہاں تک اندھے ہو گئے ہیں کہ ان کو یہ بھی نظر نہیں آتا کہ اس انکار کی زد رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر کیسے پڑتی ہے۔کیونکہ اگر بیس بائیس سال تک بھیخدا کسی مفتری کو زندگی دے سکتا ہے تو پھر مجھے تو تعجب ہی آتا ہے۔نہیں بلکہ دل کانپ اٹھتا ہے کہ رسول اکرم صلی الہ علیہ والہ وسلم کی صداقت پر کیا دلیل پیش کریں گے؟ایک مسلمان،رسو اکرم صلی الہ علیہ والہ وسلم کے سچے متبع کے منہ سے جب وہ اتنا دراز عرصہ تک مدعی کو مہلت پاتا ہوا دیکھ لے کبھی یہ نہیں نکل سکتا کہ جھوٹا اور کاذب بھی اس قدر عرصہ دراز کی مہلتپا یتا ہے۔اگرکوئی اور بھی نشان اور دلیل ایسے ہی مدعی کی صداقت کی نہ ملے۔تب بھی ایک سچے مسلمان کو حسن ظن اور ایمانداری کے رو سے لازم آتا ہے کہ انکار نہ کرے،کیونکہ اس کا زمانہ رسول اللہ